بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اسکول جاتے وقت پینٹ شرٹ پہننا


سوال

  میرا ایک بچہ ہے میں نے اس کو مدرسہ میں داخل کیا ہے ،اس مدرسے کے قریب ایک اسکول ہے میری خواہش ہے کہ میرا بچہ مدرسہ کے اسباق کے ساتھ ساتھ اسکول بھی پڑھے، لیکن اس مدرسہ کے قریب  کوئی اور اسکول نہیں اور اس اسکول کے یونیفارم میں پینٹ شرٹ پہننا لازم ہے ۔توکیا اس حالت میں اسکول جاتے وقت پینٹ شرٹ کا استعمال صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

موجودہ دور میں پینٹ شرٹ کسی مخصوص مذہب کے پیروکاروں کا شعار نہیں،اس لیے اسے پہننا شرعًا جائز ہے۔ البتہ جس معاشرے میں اس لباس کو عام طور صلحاء نہ پہنتے ہوں اور صرف مغربی طرزِ زندگی سے  متاثر لوگ ہی پہنتے ہوں،وہاں بلا ضرورت اس لباس سے احتراز کرنا زیادہ بہتر اور محتاط طرزِ عمل ہے۔تاہم اگر کسی اسکول، کالج یا ملازمت میں اسے بطور یونیفارم پہننا ضروری ہو، تووہاں اس کے استعمال کی گنجائش  ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق بچے کا اسکول کے اوقات میں پینٹ شرٹ پہن کر اسکول جانے کی اجازت ہے۔

 

قال الله تعالى: ﴿يَابَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ﴾ (الأعراف: 26) 

فانظر من كان متشبهاً بأهل الحق على قصد الباطل حصل له نجاة صورية، وربما أدت إلى النجاة المعنوية، فكيف بمن يتشبه بأنبيائه وأوليائه على قصد التشرف والتعظيم، وغرض المشابهة الصورية على وجه التكريم؟(مرقاة المفاتيح،كتاب اللباس، ج:7، ص:2782،رقم الحديث:4347)

القاعدة الرابعة:المشقة تجلب التيسير...القاعدة الخامسة:الضرر يزال...وتتعلق بها قواعد،القاعدة الأولى:الضرورات تبيح المحظورات،الثانية:ما أبيح للضرورة يقدر بقدرها.(الأشباه والنظائر لابن نجيم،القاعدة الرابعة،القاعدة الخامسة،ص:37،42،43)


فتویٰ نمبر : 6412/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں