بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/07/2026

دارالافتاء

 

شركت کی ایک صورت اورمنافع کی تقسیم


سوال

میں (شکیل احمد)اور میرے بھائی (جاوید احمد)نے ایک مشترکہ کاروبار شروع کیا ہےدونوں نے آدھا آدھا سرمایہ لگایا ہے ،لیکن ہم میں سے جو شخص اس کاروبا کو چلائے گااور کام کرے گا اس کو نفع کی زیادہ مقدار(مثلا:60فیصد)ملے گی اور جو کام نہیں کرےگا اس کو کم مقدار( 40فیصد  )ملے گی،تو کیا یہ شرکت ازروئے شریعت جائز ہے یا نہیں؟نیز نفع تقسیم کرنے کے متعلق  تفصیل کیا ہے؟اور مذکورہ صورت میں نقصان بھی اس حساب سے ہوگا یا نقصان میں دونوں برابر کے شریک ہوں گے؟

جواب

شرکت کی صحت کے لیے ضروری ہے کہ معاہدہ کرتےوقت درج ذیل اصول کا خیال رکھا جائے:

  1. نفع کو سرمایہ کے تناسب کی بجائے حاصل ہونے والے حقیقی نفع میں تناسب کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے گا۔
  2. مال کی ایک معین مقدار بطور نفع کسی شریک کے لیے طے کرنا جائز نہیں۔
  3. جس شریک کے بارے میں یہ طے کیا گیا کہ وہ ضرور کام کرے گا تو اس کا نفع سرمایہ کے تناسب سے زیادہ مقرر کرنا جائز ہے،خواہ دوسرا کام کرے یا نہ کرے۔
  4. جس شخص کے لیے شرط لگائی ہو کہ وہ کام نہیں کرے گا،اس کے لیے سرمایہ کاری کے تناسب سے زیادہ تناسب میں نفع مقرر کرنا ناجائز ہے۔
  5. نقصان کی صورت میں دونوں اپنے اپنے سرمایہ کے تناسب سے نقصان اٹھانے کے ذمہ دار ہوں گے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق کام کرنے والے شریک کے لیے منافع کی زیادہ مقدار متعین کرنا اور اس طرح شرکت کا کاروبار کرنا جائز ہے۔تاہم نقصان میں دونوں سرمایہ کے تناسب سے  شریک ہوں گے۔

 

عن جابر بن زيد قالوا:‌الربح ‌على ‌ما اصطلحوا عليه، والوضيعة على المال، هذا في الشريكين فإن هذا بمائة، وهذا بمائتين.(مصنف عبد الرزاق،كتاب البيوع،باب نفقة المضارب ووضيعته،ج:8،ص:248،رقم الحديث:15089)

ولا يجوز الشركة إذا شرط لأحدهما دراهم مسماة من الربح.(الهداية،كتاب الشركة،فصل ولا تنعقد الشركة إلا بالدرهم وغيره،ج:2،ص:611)

‌إذا ‌شرطا ‌الربح ‌على ‌قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما....وإن ‌شرطا ‌العمل ‌على أحدهما، فإن شرطاه على الذي شرطا له فضل الربح؛ جاز، والربح بينهما على الشرط فيستحق ربح رأس ماله بماله والفضل بعمله، وإن شرطاه على أقلهما ربحا لم يجز؛ لأن الذي شرطا له الزيادة ليس له في الزيادة مال.ولا عمل ولا ضمان؛ وقد بينا أن الربح لا يستحق إلا بأحد هذه الأشياء الثلاثة. ( بدائع الصنائع،كتاب الشركة،فصل في شروط جواز هذه الأنواع،ج:7،ص:518،517)


فتویٰ نمبر : 3902/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں