بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد سے گھونسلا ختم کرنا


سوال

ہماری مسجد میں پرندوں کا گھونسلا ہے ،گندگی پھیلانے کے ساتھ ساتھ نماز کے اوقات میں ان کی آواز سے نماز میں خلل پڑتا ہے،بلکہ بعض لوگ تو اس وجہ سے مسجد  نہیں آتے ،وہ کہتے ہیں کہ ہماری توجہ نماز سے ہٹ جاتی ہے، تو کیا اس گھونسلے کو ہم ختم کرسکتے ہیں یانہیں؟

جواب

مساجد کو صاف ستھرا رکھنا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔اسی طرح نماز میں خشوع خضوع کا خیال رکھنابھی ضروری ہے اور جو چیز اس میں خلل پیدا کرتی ہو اس کو دور کرنا چاہیے۔

چنانچہ اگر مسجد میں گھونسلا ہو اور نماز کے اوقات میں پرندوں کی آواز سے نماز میں خلل پڑنے کی وجہ سے نمازیوں کی تعداد میں کمی کا اندیشہ ہو یا گندگی پھیلتی ہو،تو فقہاےکرام نے ایسی حالت میں پرندوں کے گھونسلوں کو مسجد سے ختم کرنے کی اجازت دی ہے۔لہذا صورت مسئولہ کے مطابق مسجد سے اِس گھونسلے کو ختم کرنا درست ہے۔

 

عن عائشة:أن النبي صلى الله عليه وسلم ‌صلى ‌في ‌خميصة ‌لها ‌أعلام، ‌فنظر ‌إلى ‌أعلامها ‌نظرة، فلما انصرف قال:اذهبوا بخميصتي هذه إلى أبي جهم، وأتوني بأنبجانية أبي جهم، فإنها ألهتني آنفا عن صلاتي.(صحيح البخاري،كتاب الصلاة، باب إذا صلى في ثوب له أعلام...،رقم الحديث:366)

قال بدرالدين العيني: وفيه: طلب ‌الخشوع في الصلاة والإقبال عليها ونفي كل ما يشغل القلب ويلهي عنه، ولهذا قال أصحابنا: المستحب أن يكون نظره إلى موضع سجوده، لأنه أقرب إلى التعظيم من إرسال الطرف يمينا وشمالا. وفيه: المبادرة إلى ترك كل ما يلهي ويشغل القلب عن الطاعة والإعراض عن زينة الدنيا والفتنة بها. وفيه: منع النظر وجمعه عما لا حاجة بالشخص إليه في الصلاة وغيرها،... وفيه: كراهة تزويق المحراب في المسجد وحائطه ونقشه وغير ذلك من الشاغلات.(عمدة القاري،كتاب الصلاة،باب إذا صلى في ثوب له أعلام...،ج:4،ص:94)

ولو كان في المسجد عش خطاف،أوخفاش يقذر المسجد،لا بأس برميه بما فيه من الفراخ.(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية، الباب الخامس في أداب المسجد،ج:5،ص:321)


فتویٰ نمبر : 6407/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں