بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ملازم کو زکوۃ دینا


سوال

ایک شخص کی ماہانہ تنخواہ پچیس یاتیس ہزار روپے ہے، اوروہ بمشکل اپنی روزمرہ ضروریات اور بچوں کا خرچہ پورا کرتا ہے، کیاایسے شخص کوزکوۃ دینا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص نصاب کے برابر مال کا مالک نہ ہو، تو وہ شخص زکوۃ کا مستحق ہےلہذا اس کو زکوۃ دینا جائز ہے۔

صورت مسئولہ میں اگر کسی کی  تنخواہ کم ہونے کی وجہ سے گھریلو اخراجات بمشکل پورے ہوتے ہوں اور اس کے علاوہ اس کے پاس بقدرِ نصاب نقد رقم یا ضروریاتِ اصلیہ سے زائد اثاثے موجود نہ ہوں ،تو ایسے شخص کو زکوۃ دینا جائز ہے۔

 

ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا. (الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:179)

وكذا لو كان له حوانيت أو دار غلة تساوي ثلاثة آلاف درهم وغلتها لا تكفي لقوته وقوت عياله يجوز صرف الزكاة إليه في قول محمد - رحمه الله تعالى –. (الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، الباب السابع في المصارف، ج:1 ،ص:179)


فتویٰ نمبر : 10678/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں