بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

رغبتِ جماع کے بغیرعورت کوشہوت سے مس کرنا


سوال

حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ جس عورت کو شہوت کے ساتھ مس کیا گیا ہو ، اس کے ساتھ رغبتِ جماع بھی ہو ، میرا سوال یہ کہ اگر کسی مرد نے کسی عورت کو غلط نیت سے اور بنا کسی حائل کے ہاتھ لگایا ہو اور اس سے اس کو انتشار ہوا ہو یعنی شہوت پیدا ہوئی ہو لیکن اس کی نیت جماع کی نہ ہو صرف مس کیا  ہو تو کیا حرمتِ  مصاہرت ثابت ہوگی یا نہیں ؟ اسی طرح عورت کو شہوت سے مس کیا لیکن  اس وقت  اس کی رغبت جماع کی نہیں تھی بعد میں رغبت پیدا ہوئی یعنی مس کرتے وقت جماع کی نیت نہیں تھی تو کیا اس سے حرمتِ  مصاہرت ثابت ہوگی یانہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ کوئی شخص کسی عورت کو شہوت سے چھوتا  ہے، تو اس  سے حرمتِ مصاہرت کے ثبوت کے لیے جو  شرائط بیان کی گئی ہیں، ان  میں سے  شہوت کے ساتھ میلان(رغبتِ جماع)بھی ہے ۔

لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق اگرکوئی شخص کسی مشتہاۃ عورت کو بغیر حائل کے یا ایسے باریک حائل کے ساتھ کہ جس سے بدن کی حرارت محسوس ہوتی ہو، شہوت کے ساتھ ہاتھ لگتا ہے، اور اس کو انتشار بھی ہوجاتا ہے، لیکن اس عورت کی طرف رغبتِ جماع نہ ہو، تو حرمتِ مصاہرت ثابت نہ ہوگی۔نیزمس کرتے وقت رغبتِ جماع کا اعتبار ہے بعد میں میلان معتبر نہیں۔

قال عامة العلماء:‌الشهوةأن ‌يميل ‌قلبه إليهاويشتهي ‌أن ‌يواقعها،كذا في قاضي خان.(درر الحكام شرح غرر الأحكام،كتاب النكاح،نكاح مسلم ذمية عند ذميين،ج:1،ص:330)

وجعلواحد‌الشهوة ‌أن ‌يميل ‌قلبه إليها ويشتهي جماعها.(المحيط البرهاني،كتاب النكاح،الفصل الثالث عشرفي بيان أسباب التحريم،ج:3،ص:63)

وجعلواحد‌الشهوة‌أن يميل قلبه إليهاويشتهي جماعها.(النهايةفي شرح الهداية،كتاب النكاح،فصل في المحرمات، ج:7،ص:30)


فتویٰ نمبر : 7246/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں