بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
شافعی امام کےپیچھے وتر پڑھنا
سوال
اگرحرمین شریفین میں کوئی حنفی شخص رمضان میں شافعی امام کےپیچھےاسی طرح وتر پڑھ لے کہ پہلے دو رکعات پڑھے پھرسلام پھیر کر ایک رکعت پڑھ لے تو کیا اس مقتدی کی نماز اس شافعی امام کے پیچھے جائز ہوگی یانہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ احناف کےہاں وترکی نماز واجب ہے جوتین رکعات پر مشتمل ہوتی ہے ،اور یہ تینوں رکعات ایک سلام سے پڑھی جائیں گی،اگرکوئی شخص شافعی امام کے پیچھے وتر پڑھےتواس کے بارےمیں فقہاے احناف کی دوآرا پائی جاتی ہیں،اکثر فقہاے کرام کے نزدیک چونکہ نماز میں مقتدی کی رائے کااعتبار ہے اوردوسلاموں سے وترحنفی مقتدی کے نزدیک درست نہیں ہے ،لہذا اس حنفی شخص کےلیے دوسلاموں سے وتر پڑھانے والے کےپیچھے وتر پڑھنا درست نہ ہوگا،نیزان کے یہاں اقتداء المفترض بالمتنفل (فرض پڑھنے والے کانفل پڑھنے والے کی اقتدا) لازم آتی ہےاس لیے بھی درست نہیں ،فقہاے احناف میں سے علامہ ابوبکرجصاص رازیؒ،علامہ ہندوانی ؒاوردوسرےمتاخرین علماے کرام نے حنفی شخص کا شافعی امام کےپیچھے وتر پڑھنے کو جائز قرار دیا ہے۔
صورت مسئولہ میں چونکہ آج کل رمضان میں حنفی زائرین کاحرمین شریفین میں بڑا مجمع ہوتا ہےان کےلیے جماعت کوچھوڑ کر الگ سے وترپڑھنے میں بہر حال حرج ہے،اور اس وقت صفوں سےنکلنا یاصفوں میں نماز کے بغیر بیٹھے رہنا یا انفرادی نماز پڑھنا ایک نامناسب عمل ہے،اس لیے جواز کے قول سے استفادہ کرکےائمہ حرم کےپیچھے وتر پڑھنے کی گنجائش ہے، البتہ اکثرفقہاے کرام کے اقوال کے تناظر میں حرمین شریفین کےعلاوہ شافعی امام کے پیچھے وترپڑھنے سے احتراز کرنا چاہیے۔
(قوله بتسليمة) أشار به إلى أنه لا يصح الاقتداء فيه بمن يفصله وبه صرح في فتاوى قاضي خان والظهيرية. وفي البحر وهو المذهب الصحيح اهـ.ومشى ابن وهبان في نظمه على أن المقتدي إن لم يتابع إمامه في السلام بعد الركعتين الأوليين وأتمه معه صح كما ذكر الرازي في شرحه.وقال العلامة ابن الشحنة ومبنى الخلاف على أن المعتبر رأي المقتدي أو رأي الإمام وعلى الثاني يتخرج كلام الرازي وهو قول الهندواني وجماعة، وفي النهاية أنه أقيس. (درر الحكام شرح غرر الأحكام، كتاب الصلاة، باب الوتر النفل، أحوال الوتر، ج:1، ص:112)
وذكر أبو بكر الرازي اقتداء الحنفي بمن يسلم على رأس الركعتين في الوتر يجوز ويصلي معه بقية الوتر لأن إمامه لم يخرج بسلامه عنده؛ لأنه مجتهد فيه كما لو اقتدى بإمام قد رعف فعلى هذا لا يجوز الاقتداء إذا صحت على زعم الإمام وإن لم تصح على زعم المقتدي وقيل إذا سلم الإمام على رأس الركعتين قام المقتدي وأتم الوتر وحده وقال صاحب الإرشاد لا يجوز الاقتداء بالشافعية في الوتر بإجماع أصحابنا؛ لأنه اقتداء المفترض بالمتنفل والأول أصح لأن اعتقاد الوجوب ليس بواجب على الحنفي ولو علم المقتدي من الإمام ما يفسد الصلاة على زعم الإمام كمس المرأة والذكر، وما أشبه ذلك والإمام لا يدري بذلك تجوز صلاته على رأي الأكثر، وقال بعضهم لا يجوز منهم الهندواني لأن الإمام يرى بطلان هذه الصلاة فتبطل صلاة المقتدي تبعا له وجه الأول وهو الأصح أن المقتدي يرى جواز صلاة إمامه، والمعتبر في حقه رأي نفسه فوجب القول بجوازها. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب الصلاة، باب الوتر والنفل، ج:1، ص:171)
وقول أبي بكر الرازي إن اقتداء الحنفي بمن يسلم على رأس الركعتين في الوتر يجوز ويصلي معه بقيته لأن إمامه لم يخرجه بسلامه عنده لأنه مجتهد فيه، كما لو اقتدى بإمام قد رعف يقتضي صحة الاقتداء وإن علم منه ما يزعم به فساد صلاته بعد كون الفصل مجتهدا فيه. وقيل إذا سلم الإمام على رأس الركعتين قام المقتدي فأتم منفردا، وكان شيخنا سراج الدين يعتقد قول الرازي. (فتح القدير للكمال بن الهمام، كتاب الصلاة، باب الوتر، ج:1، ص:437)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں