بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوہ کی عدت کی ابتداء


سوال

ایک شخص کا سعودی عرب میں انتقال  ہوا،تو اس کو اپنے ملک لانے میں وقت لگتاہے تو بیوہ کی عدت کب سے شروع ہوگی جنازہ اٹھنے سے یا انتقال کے وقت سے اور اگر بیوہ کو شوہر کی وفات کا علم نہ ہو اور وہ باہر کسی کام کے لیے  جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب

واضح رہےکہ شوہر کے انتقال کے ساتھ ہی بیوہ کی عدت شروع ہوجاتی ہےجنازہ اٹھنے سے نہیں۔البتہ اگرعورت کو عدت کا علم نہ ہواور وہ عدت کے احکام پر عمل نہ کرے تو  امیدہے کہ اس پر وہ گناہگار نہ ہوگی۔

 

ابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق، وفي الوفاة عقيب الوفاة، فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها.(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الثالث عشر في العدة،ج:1،ص:532)

 (ومبدأ العدة بعد الطلاق و) بعد (الموت) على الفور وتنقضي العدة وإن جهلت المرأة بهما أي بالطلاق والموت لأنها أجل فلا يشترط العلم بمضيه سواء اعترف بالطلاق أو انكر.(الدر المختار شرح تنویر الأبصار،كتاب الطلاق،باب العدة،ص:247)

(قوله:ومبدأ العدة بعد الطلاق والموت): يعني ابتداء عدة الطلاق من وقته وابتداء عدة الوفاة من وقتها سواء علمت بالطلاق والموت أو لم تعلم، حتى لو لم تعلم ومضت مدة العدة فقد انقضت؛ لأن سبب وجوبها الطلاق أو الوفاة فيعتبر ابتداؤها من وقت وجود السبب كذا في الهداية.(البحر الرائق شرح کنز الدقائق،کتاب الطلاق،باب العدة،ج:4،ص:157)


فتویٰ نمبر : 7242/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں