بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دو عورتوں کا دعویٰ رضاعت


سوال

ایک لڑکا لڑکی کی شادی ہوئی ہے  جو آپس میں چچا زاد بہن بھائی ہیں،اب لڑکے کی دادی اور ماں  دعوٰی کرتی ہیں کہ اس لڑکے کو دادی نے دودھ پلایا تھا۔اب اس نکاح  کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ حرمتِ رضاعت کے ثبوت کے لیے دو عادل مرد وں، یاایک مرد اور دوعورتوں کی گواہی ضروری ہے، بغیر گواہوں کےحرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔

لہذاصورتِ مسئولہ میں اگر  رضاعت کےثبوت پر دو عادل مرد ، یاایک مرد اور دوعورتیں بطور گواہ موجود نہ ہوں، تو محض دادی  اور ماں کے خبر دینے سے حرمتِ رضاعت  ثابت نہیں ہوتی، لہذااِن کا نکاح بر قرار رہے گا۔

 

(ولاتقبل في الرضاع شهادة النساء منفردات وإنما تثبت بشهادة رجلين أو رجل وامرأتين)......ولنا أن ثبوت الحرمة لايقبل الفصل عن زوال الملك في باب النكاح وإبطال الملك لايثبت إلا بشهادة رجلين أو رجل وامرأتين.(العناية شرح الهدية، كتاب الرضاع،ج:5، ص:158)

قال:ولايجوز شهادة امرأة واحدة على الرضاع أجنبيةً كانت أو أم أحد الزوجين، ولايفرق بينهما بقولها، ويسعه المقام معها حتى يشهد على ذلك رجلان أو رجل وامرأتان عدول، وهذا عندنا.(المبسوط للسرخسی،باب الرضاع،ج:5،ص:137)


فتویٰ نمبر : 7243/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں