بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

فصل پکنے کے وقت گھاس وغیرہ سمیت بیچنا


سوال

اگر ایک شخص اپنے کھیتوں میں فصل کاشت کرے، اور اس کا اچھا خاصہ خیا ل بھی رکھے، ضرورت کے وقت اس فصل کوپانی بھی دیتا ہو، وقت آنے پر یوریا بھی ڈالتا ہو، تو فصل پکنے کے وقت وہ کسی مخصوص قیمت پر اپنے فصل کا سارا کچھ بیچ سکتا ہے یا نہیں؟ مثلاً: اس کھیت کے گندم، گھاس وغیرہ سب کچھ40 ہزار پربیچے، توکیا یہ جائز ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ فصل اُگنے کے بعد اس کی خرید وفروخت شرعاًجائز ہے۔  بشرطیکہ دورانِ عقد فصل کوکھیت میں چھوڑے رہنے کی شرط نہ لگائی جائے، کیونکہ یہ شرط فاسد ہے، البتہ عقد کے بعد اگر مالک کی اجازت ورضامندی سے فصل کو کھیت پرچھوڑ دیا جائے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے، لیکن اگر مالک فصل کاٹنے کا کہے تو اسے فصل باقی رکھنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح وہ گھاس جو زمین میں بغیر بیج بوئے اور بغیر کھاد وپانی دیے خود اُگے تووہ اصلاً مباح ہے، لہٰذااس کی بیع زمین مسقلا ًجائز نہیں، البتہ وہ گھاس جسےزمیندار نے بویا ہو، اور اُسے فروخت کرے تو اس کی بیع جائز ہے۔ نیز اگر کسی معاملے میں اصل مقصود کسی مباح  چیز کی خرید وفروخت  ہو، لیکن اس کے ضمن میں کوئی ایسی چیز فروخت کی جائے جس کی بیع اصلاً جائز نہ ہو، تو  تبعاً اس کی بیع بھی جائز شمار کی جائے گی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی کاشتکار فصل پکنے کے وقت اُسےکسی مخصوص قیمت پر فروخت کرے تو مذکورہ شرائط کے ساتھ اس کی بیع جائز ہے، نیز اگردورانِ عقد گندم کے ساتھ گھاس وغیرہ کو بھی شامل کرکے سب کی مجموعی طور پرایک ہی قیمت لگائی جائے، تو گندم کے ضمن میں گھاس کی خرید وفروخت بھی جائزشمار ہوگی، تاہم اگر گندم اور گھاس کی الگ الگ قیمت مقرر کی جائے تو اس صورت میں گھاس کی بیع جائز نہیں ہوگی۔

 

(المادة 206) الثمرة التي برزت جميعها يصح بيعها وهي على شجرها سواء كانت صالحة للأكل أم لا.....فإذا كان الثمر لم يزهر فالبيع غير جائز (انظر المادة السابقة) وكذلك بيع الحنطة في سنبلها بغير جنسها صحيح والبائع ملزم بحصاد الحنطة ودراسها وتسليمها للمشتري بعد ذلك.مثال ذلك: لو قال البائع: بعت ما في مزرعتي هذه من الحنطة بخمسمائة قرش أو بهذه البغلة وقبل المشتري المبيع فالبيع صحيح ويجب على البائع حصاد الحنطة ودراسها وتسليمها إلى المشتري. أما إذا باع البائع الحنطة مع تبنها وسنبلها فليس بملزم بالحصاد والدراس (رد المحتار). (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، الكتاب الأول في البيوع، الفصل الثاني فيما يجوز بيعه وما لايجوز، رقم المادة:206، ج:1، ص:172)

‌وأما ‌بيع ‌الزرع ‌والحشيش: ‌إذا ‌باع ‌الزرع وهو بقل إن باعه على أن يقطعه المشتري أو على أن يرسل دابته فيها لتأكل جاز؛ لأنه شرط ما يقتضيه العقد، وإن باعه على أن يتركه حتى يدرك لا يجوز؛ لأنه شرط ما لا يقتضيه العقد. (المحيط البرهاني، كتاب البيع، الفصل السادس فيما يجوز وما لايجوز بيعه، ج:6، ص:337)

‌والزرع ‌في ‌أول ‌ما ‌يبدو ‌قبل ‌أن ‌يصير ‌منتفعا ‌به لا يكون مالا متقوما أما بعد ما صار منتفعا به بحيث يعمل فيه المناجل ومشافر الدواب يجوز بيعه لأنه مال متقوم منتفع به فإن باعه بشرط القطع أو مطلقا جاز لأن مقتضى مطلق البيع تسليم المعقود عليه عقيبه فهو وشرط القطع سواء وإن باعه بشرط الترك في أرضه حتى يدرك فلا خير فيه. (المبسوط للسرخسي، كتاب البيوع، ج:12، ص:193)

(المادة:١٢٤١)-(كما أن الكلأ النابت في الأراضي التي لا صاحب لها مباح كذلك الكلأ النابت في ملك شخص بدون تسببه مباح أيضا. أما إذا تسبب ذلك الشخص في هذا الخصوص بأن أعد أرضه وهيأها بوجه ما لأجل الإنبات كسقيه أرضه أو إحاطتها بخندق من أطرافها فالنباتات الحاصلة في تلك الأرض تكون ماله فلا يسوغ لآخر أن يأخذ منها شيئا فإذا أخذ شيئا واستهلكه يكون ضامنا).....‌وبيع ‌هذا ‌الكلأ ‌قبل ‌إحرازه ‌باطل. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام،الكتاب العاشر الشركات، الباب الرابع في بيان شركة الإباحة،رقم المادة:1241، ج:3، ص:254)

قال رحمه الله (وصح وقف العقار ببقره وأكرته) والقياس أن لا يجوز لأن التأبيد من شرطه وجه الاستحسان أنها تبع للأرض في تحصيل ما هو المقصود وكم من شيء ‌يثبت ‌تبعا ولهذا دخل البناء في وقف الأرض وعلى هذا سائر آلات الحراثة. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب الوقف، ج:3، ص:327)

وما ‌يثبت ‌تبعا يثبت بشرائط المتبوع. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب المكاتب، باب ما يجوز للمكاتب أن يفعله، ج:5، ص:159)


فتویٰ نمبر : 3889/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں