بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

بسترمرگ پرتمام جائیداد ایک وارث کو ہبہ کرنا


سوال

کیا کو ئی شخص بستر مرگ پراپنے تمام ورثاء کی موجودگی میں پوری جائیداد اپنے ایک بیٹے کوہبہ کرسکتا ہے،کہ جس کی وجہ سے دوسرےوارث میراث سے محروم ہوجائیں؟

جواب

واضح رہے کہ مرض الموت  میں کسی کو کوئی چیز ہبہ کرنا وصیت کے حکم میں ہوتاہےاور شریعت مطہرہ نے ہروارث کے لئےاس کا شرعی حصہ متعین کردیا ہے،  لہذا وارث کے لئے وصیت  دیگرورثاءکی اجازت پرموقوف ہوتی ہےان کی اجازت کے بغیرنافذ نہیں ہوتی۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگرکسی نے بستر مرگ پر اپنی  جائیداد ایک بیٹےکو ہبہ کردی ہو،  تو یہ  ہبہ دیگر ورثاءکی رضامندی کے بغیر شرعا معتبر نہیں ہے، چنانچہ اگر دیگر ورثاءکی رضامندی نہ ہوتویہ جائیدادمرحوم کےتمام ورثاءمیں ان کےشرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔

 

(ولا تجوز لوارثه)لقوله عليه السلام :"إن الله أعطى كل ذي حق حقه،ألا لا وصية لوارث "؛ولأنه يتأذى البعض بإيثار البعض،ففي تجويزه قطيعة الرحم ؛ولأنه حيف. (الهداية، كتاب الوصايا، ج4، ص140،139)

والهبة والصدقه من المريض لوارثه في هذا نظير الوصية؛لأنه وصية حكما حتى يعتبر من الثلث. ( تبیین الحقائق، كتاب الوصايا، ج6، ص:182)


فتویٰ نمبر : 6400/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں