بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

رضاعت کے ثبوت کے لیے ایک گواہ کی شرعی حیثیت


سوال

اٹھارہ سال پہلےمیری بیوی فوت ہوگئی تھی ،میرے ایک بیٹے کی عمر اس وقت چار مہینے تھی، میں نےاس کو اپنی بھابھی کی تربیت میں دیا،بلوغت کے بعد اس کی منگنی اپنی بھتیجی(دوسرے بھائی کی بیٹی)سے کرائی، منگنی کے (26) مہینےبعدلڑکی کی ماں کہتی ہے کہ میں نے آپ كے اس بيٹے  کو دودھ پلایا ہے،جس كے ساتھ میری بیٹی کا  رشتہ طے ہوا ہے،جبکہ اس کے پاس کوئی گواہ نہیں،میں نے جس بھابھی کی تربیت میں یہ بیٹادیا تھا، وہ اور میری بہنیں کہتی ہیں کہ اس نے اسے دودھ نہیں پلایا، تو کیا اب ہم اس منگنی کو برقرار رکھ کر نکاح کر سکتے ہیں یا نہیں ؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے ثبوت رضاعت کے لیے  کم از کم دو مرد یا ایک مرداوردو خواتین کی گواہی ضروری ہے، کسی ایک عورت کا قول رضاعت کے ثبوت کے لیے کافی نہیں ،البتہ اگر خبر دینے والی خاتون قابل بھروسہ ہو ، تو بہتریہ ہے کہ  نکاح سے احتراز کیا جائے۔

صورت مسئولہ میں لڑکی کی والدہ کا یہ کہنا کہ" میں نے اس لڑکے کو دودھ پلایا ہے" ،اگراس دعویٰ پردومرد یا ایک مرداوردو عورتیں بطور گواہ موجود نہ ہوں،  توصرف اس کے دعویٰ سےحرمت رضاعت ثابت نہ ہو گی، تاہم اگر دعویٰ کرنے والی خاتون قابل اعتبار ہواور اس کے دعویٰ سےشبہ پیدا ہو رہا ہوتو پھرنکاح کے معاملے میں احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ اس سےاجتناب کیا جائے۔

 

وإذا شهدت امرأة على الرضاع، فالأفضل للزوج أن يفارقها لما روي عن محمد أن عقبة بن الحرثقال تزوجت بنت أبي إهاب، فجاءت امرأة سوداء فقالت:إن أرضعتكما فذكرت ذلك لرسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال صلى الله عليه وسلم: فارقها، فقلت: إنها امرأة سوداء، وإنها كيت وكيت فقال صلى الله عليه وسلم كيف وقد قيل.  ( بدائع الصنائع، کتاب الرضاع،  ج:5، ص: 106)

حجته حجة المال، وهی شهادة عدلین، أوعدل وعدلتين، وأفاد أنه لايثبت بخبرالواحد امراة كان، أو رجلا قبل العقد أو بعده. (ردالمحتارعلی الدرالمختار، باب الرضاع، ج:4، ص:420)


فتویٰ نمبر : 7241/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں