بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حالتِ عدت میں عورت کا گھر سے باہر نکلنا


سوال

اگر کسی عورت کا خاوند فوت ہو جائےاوروہ حالتِ عدت میں ہو،  اور اسی دوران اس کا والد فوت ہو جائے،توکیا وہ اپنے والد کی وفات پر جاسکتی ہے یانہیں؟

جواب

فقہائے کرام کی عبارات سےیہ بات واضح ہے کہ معتدہ  کا بغیر کسی عذر کےگھر سے باہر نکلنا ناجائز ہے،البتہ اگر ایسی صورت پیش آجائے کہ اس میں عورت کو باہر نکلنے کی شدید ضرورت ہو تو ایسی صورت میں عورت گھر سے باہر نکل سکتی ہے،تاہم اس میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ وہ کام سے فراغت پر جلد از جلدگھر واپس آئے رات باہر نہ گزارے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر عدتِ وفات میں کسی عورت کا والد فوت ہو تو اس کے لیے دِن کےوقت جانا مرخص ہے،تاہم رات  اپنے گھر میں گزارنا ضروری ہو گا۔

 

فالظاهر ‌من ‌كلامهم ‌جواز ‌خروج ‌المعتدة عن وفاة نهارا، ولو كانت قادرة على النفقة ولهذا استدل أصحابنا بحديث «قريعة بنت أبي سعيد الخدري - رحمه الله تعالى - أن زوجها لما قتل أتت النبي صلى الله عليه وسلم فاستأذنته في الانتقال إلى بني خدرة فقال لها: امكثي في بيتك حتى يبلغ الكتاب أجله» فدل على حكمين إباحة الخروج بالنهار وحرمة الانتقال حيث لم ينكر خروجها ومنعها من الانتقال.(البحر الرائق،كتاب الطلاق،فصل في احداد،ج:4،ص:259)


فتویٰ نمبر : 7250/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں