بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

مسجد میں حجامہ لگانا


سوال

مسجد میں حجامت (خون نکالنا) کرنا کیسا ہے؟ اور اگر مسجد میں بڑا پلاسٹک بچھایا جائے اور اس پر چادر بچھائی جائے اس پر بیٹھ کر حجامت لگوایا جائےتو کیا حکم ہےاور کیا یہ مسجد کے آداب کے خلاف ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مسجد میں قصداً ایسی چیز لے جانا جو کہ نجس ہو نا جائزہےاگرچہ اس کوبہت ہی محتاط طریقے سے  لے جایاگیا ہو۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق  مسجد میں حجامہ لگانا درست نہیں۔ اس لیے کہ اس میں قصداً خون نکالا جاتا ہے، اور جسم سے بہنے والا خون نجس ہےاس لیے اس سے احتراز ضروری ہے۔

 

فلو طاف وعلى ثوبه نجاسة أكثر من الدرهم لا يلزمه شيء بل يكره لإدخال النجاسة ‌المسجد.(رد المحتار على الدر المختار، ‌‌كتاب الحج،ج: 2،ص: 469)


فتویٰ نمبر : 10689/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں