بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سر كے بال بیچنے كاحكم


سوال

كيا سر كے بال بیچنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

انسان کو اللہ تعالی نے محترم ومکرم بنایا ہے ،انسان کے کسی بھی عضو یا جز  کی خرید وفروخت کرنا نا جائز اور حرام ہے،کیونکہ اس میں انسانی اعضا کی تحقیرلازم آتی ہے ۔لہذا صورتِ مسئولہ میں سر کے بال بیچنا جائزنہیں۔

 

قال (وشعر الإنسان) يعني لا يجوز بيع ‌شعر ‌الإنسان والانتفاع به؛لأن الآدمي مكرم فلا يجوز أن يكون جزؤه مهانا.(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،کتاب البیوع،باب البيع الفاسد،ج:4،ص:51)


فتویٰ نمبر : 3907/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں