بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مدت ز یادہ گزرنے سے میراث کا سقوط


سوال

میرے نانا کے فوت  ہونے کا تقریبا بیس  سال پورے ہوچکے ہیں  اور اس کی میراث انکے کے بیٹوں نے آپس  میں تقسیم کی ہے لیکن میری والدہ کے حصے کی میراث  انہوں نے نہیں دی ہے، کیا اب ہم اپنے ماموں سے والدہ کی میراث کا مطالبہ کرسکتے ہیں؟  کیا بر وقت مطالبہ نہ کرنے کی وجہ سے اس  کا حق ساقط ہوگیا ؟میری والدہ کی  بیماری کی وجہ سے وہ اب ان پیسوں کی زیادہ محتاج ہے جبکہ میرےپاس خود اتنے پیسے نہیں کہ ازخود اس کے علاج کا خرچہ برداشت کرسکو ں۔

جواب

واضح رہے میراث ایک ایسا حق ہے جو وارث کے لئے غیر اختیاری طور پر ثا بت ہوتاہے،اوروہ  اس کا مالک بن جاتا ہے  زیادہ وقت گزرنے سے حق میراث ساقط نہیں ہوتا اگرچہ اس پر کسی  اور نے ناحق قبضہ کیا ہواہو۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  اگر واقعی سائل کی والدہ نے ابھی تک اپنے حصے کی میراث نہ لی ہواور نہ ہی اس کے بدلے  کوئی اور  چیز لی ہو، تو وہ اب بھی اپنے حصے کی میراث کا مطالبہ کرسکتی ہے،نیز   کسی  کا زیادہ وقت تک اس پر ناحق قبضہ کرنے کی وجہ  سےحق ساقط نہیں ہوتا۔

 

‌الإرث ‌جبري لا يسقط بالإسقاط.(العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية،كتاب الدعوی،ج:2،ص:26)

إن مرور الزمان في اصطلاح الفقهاء عبارة عن منع سماع الدعوى بعد أن تركت مدة معلومة،  وهـذا الـمـنع غير قياسي؛ لأن الحق لا يسقط بتقادم الزمان... قال في تنقيح الحامدية: ثم اعلم أن عدم سماع الدعوى بعد مضي ثلاثين سنة أو بعد الإطلاع على التصرف، ليس مبنيا على بطلان الحق في ذلك، وإنـمـاهـو مـجـرد مـنـع للقضاة عن سماع الدعوى مع بقاء الحق لصاحبه، حتى لو أقربه الخصم يلزمه. (شرح المجلة لسليم رستم باز،الكتاب الرابع عشر في الدعوى، الباب الثاني في مرور الزمان: ص:983)


فتویٰ نمبر : 3780/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں