بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گندم کی کھڑی فصل کا بھوسہ خریدنا


سوال

اگرایک شخص کھیت کے مالک سے کہے کہ :تم اپنے  کھیت میں گندم کی کھڑی فصل کا بھوسہ مجھ پر فروخت کرو اورکھیت کا مالک بھی اندازہ لگا کر فروخت کرے ،تو کیا اسی طرح کھڑی فصل کابھوسہ خریدنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ عقد بیع کےحوالے سے مبیع کی شرائط میں سےيہ ہے کہ مبیع موجود ہو،مال متقوم ہو،مملوک ہو اور بائع اس کی حوالگی پرقادر بھی ہو،ورنہ بہ صورت ديگر مبیع معدوم ہونے کی وجہ سےاس كی بیع سرے سے منعقد ہی نہ ہوگی بلکہ باطل ہوگی۔

صورت مسئولہ میں چونکہ معاملہ کےوقت گندم کی کھڑی فصل میں بھوسہ اسی وقت موجود نہیں ہوتا بلکہ گندم کی صفائی اورتریشر کے بعد بھوسہ موجود  ہوتا ہے، نیز بائع اس کی حوالگی پر قادر بھی نہیں ہوتا، لہذا گندم کی صفائی اور تریشر سے پہلے ہی کھڑی فصل میں سے بھوسے کی خرید وفروخت  ناجائز ہے۔

 

(قوله لبطلان بيع المعدوم) إذ من شرط المعقود عليه: أن يكون موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وأن يكون ملك البائع فيما ببيعه لنفسه، وأن يكون مقدور التسليم منح. (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب البيوع، باب باب البيع الفاسد، مطلب في بيع المغيب في الأرض، ج: 5، ص: 58)

حتى لو باع تبن الحنطة في سنبلها دون الحنطة لا ينعقد؛ لأنه لا يصير تبنا إلا بالعلاج، وهو الدق، فلم يكن تبنا قبله فكان بيع المعدوم، فلا ينعقد. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب البيوع، فصل في الشرط الذي يرجع إلى المعقود عليه، ج: 5، ص: 139)

بيع ‌المعدوم باطل فيبطل بيع ثمرة لم تبرز أصلا.المعدوم إما أن يكون معدوما حقيقة أو معدوما عرفا والمعدوم عرفا هو المتصل اتصالا خلقيا بغيره وبيع المعدوم سواء أكان حقيقة أم عرفا باطل (انظر شرح المادة 97 1) .مثال ذلك إذا باع رجل من آخر عنب كرمه وهو زهر، أو مهر فرسه وهو جنين، أو زرع أرضه قبل أن يبدو صلاحه أي ينفصل الثمر من الزهر وينعقد ولو صغيرا فالبيع باطل، وكذلك بيع حق التعلي؛ لأنه بيع معدوم وكذلك بيع التبن وهو في السنبل قبل التذرية باطل؛ لأن التبن لا يكون من السنبل إلا بعد الدراس فبيعه قبل ذلك بيع للمعدوم وكذلك بيع البصل والثوم واللفت في بطن الأرض وهو لا يعلم وجوده بطريق من الطرق فبيع ذلك كله غير صحيح فإذا نبت وعلم وجوده في الأرض فبيعه صحيح. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، الكتاب الأول: البيوع، الباب الثاني، الفصل الثاني: فيما يجوز بيعه وما لا يجوز، المادة: 205، ج: 1، ص: 181)


فتویٰ نمبر : 3899/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں