بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

وکیل کا موکل کوخریداری سے خبردارکرنا


سوال

اگر وکیل  موکل کےلیےکسی معین چیز (گھڑی وغیرہ)کی  خریداری کرےتو کیاموکل کےحق میں خریداری کاثبوت وکیل   کی خریداری سے متحقق ہوتا ہے یا موکل کےحق میں بیع کے ثبوت کےلیے وکیل کی طرف سے موكل كو  خبردار کرانا یا رسید وغیرہ دکھانا  ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی  معین چیز کے خریدنے کےلیے کسی کو وکیل بنائےتووکیل کی خریداری خود بہ خود موکل کے حق میں ثابت ہوتی ہے، موکل کے حق میں خریداری  کے ثبوت کےلیےوکیل کی طرف سے موکل کو خبردار کرنا  ضروری نہیں ، بلکہ جب وہ معین چیز خرید لے تو وہ موکل ہی کےلیے خریداری متصور ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر موکل نے  وکیل کومعین چیز کی خریداری کا وکیل بنایا تووکیل کا کیا ہواعقد خود بہ خود موکل کےحق میں منعقد ہوجاتا ہے۔

 

المادة (1485) - (ليس لمن وكل باشتراء شيء معين أن يشتري ذلك الشيء لنفسه حتى لا يكون له وإن قال: عند اشترائه اشتريت هذا لنفسي بل يكون للموكل). (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، الكتاب الحادي عشر: الوكالة، الباب الثالث في بيان أحكام الوكالة،الفصل الثاني في بيان الوكالة بالشراء، ج: 3، ص: 593)


فتویٰ نمبر : 3894/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں