بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

صرافی کالائسنس اجارہ پر دینا


سوال

ایک آدمی ہے جو کہ کسی باہر ملک میں رہتا ہےاس کے پاس صرافی کے کاروبار کالائسنس ہے اور باہر ملکوں  میں کاروبار کے لائسنس کے بغیر کاروبارکی اجازت نہیں ہوتی اب دوسرا شخص کہتا ہے کہ یہ لائسنس مجھے دو اور میں کاروبار کرونگا جو منافع ہوگا آدھا آدھا ہوگا ،تو لائسنس دے کر کاروبار میں شریک ہونا کیسا ہے ؟ کیونکہ مفتی تقی عثمانی صاحب فقہ البیوع جلد نمبر :1،  ص:281میں فرماتےہیں کہ :تجارتی لائسنس آج کل قیمتی مال ہے اس کا خرید وفروخت جائز ہے مگر حکومتی پابندی ہے ،دوسری طرف احناف کے ہاں شرکت بالعروض جائز نہیں ،لیکن  مولاناتھانویؒ نے امداد الفتاوی جلد:3،ص:  495 (قدیم)میں شرکت بالعروض کے جواز کافتوی مذہب غیر پردیا ہے ،نیز فتاوی عثمانی جلد :3،ص:38 میں مفتی تقی عثمانی صاحب نے بھی اسی طرح کا فتوی دیا ہے لہذا اس سلسلے میں آپ کے درالافتاء کا فتوی درکار ہے ۔

جواب

واضح رہے کہ لائسنس مخصوص ادارےیاحکومت  کی طرف سے حامل لائسنس کےحق میں اجازت نامہ  اورپرمٹ ہواکرتا ہے، لائسنس کوئی مادی چیز نہیں بلکہ یہ  حکومت کی جانب سےحامل لائسنس کو مخصوص تصرف کا حق دینے کانام ہے،اوریہ ایک ایسا حق ہےجواپنے صاحب کےلیےحق شفعہ وغیرہ کی طرح محض دفع ضرر کے واسطے ثابت نہیں ہوتا بلکہ اصالتا ثابت ہوتا ہےنیز  اس  کے حاصل کرنے میں کافی کوشش کی جاتی ہے اور اور رقم بھی خرچ کرنی پڑتی ہے،اورعرف میں یہ لائسنس بڑی قیمت رکھتا ہےاوراس کےساتھ اموال والا معاملہ کیا جاتا ہے ،لہذا یہ بعید نہیں کہ خرید وفروخت کے سلسلے میں اسے مادی اشیا کے ساتھ شامل کردیا جائے،بشرطیکہ  اس  کی خریدوفروخت پر حکومتی پابندی نہ ہو، ورنہ بہ صورت دیگر جھوٹ ،دھوکہ دہی اورقانون شکنی  لازم آئے گی۔ نیز واضح رہے کہ" شرکت عروض" اس عقد کا نام ہے  جس میں شرکاء نقدی(دراہم ودنانیر یا فلوس رائجہ یعنی رائج پیسوں وغیرہ) کی بجائے غیر نقدی (سامان وغیرہ) کی بنیاد پر شرکت کریں کہ شرکاء سامان جمع کرکے یہ طے کریں کہ اس کو بیچ کر جونفع ملے گا وہ آپس میں تقسیم کیا جائے گا۔احناف کےہاں شرکت اموال میں شرکا کی جانب سےنقدی کا ہونا ضروری ہے،اگر شرکت اموال میں شرکا کی جانب سےنقدی مال نہ ہوتو شرکت جائز نہ ہوگی۔

صورت مسئولہ میں صرافی کے لائسنس کواگرچہ مال قرار دینے کی گنجائش ہے ، لیکن اوراموال کی طرح لائسنس کی بنیاد پر  شرکت عروض  درست نہیں ہے،کیونکہ شرکت عروض میں  سامان کو بیچ کر نفع میں شرکت ثابت ہوتی ہے،جبکہ یہاں لائسنس کو بیچا نہیں جاتا بلکہ اسے صرف قانونی گرفت سےبچنے کےلیےاستعمال کیا جاتا ہےلہذا اس بنیاد پر کاروبار میں شرکت جائز نہیں۔

 

وأما القسم الثاني: وهو ‌شركة ‌العروض فهو أن يخرج هذا متاعا فيقيمه ويخرج هذا متاعا فيقيمه ثم يشتركان بالقيمتين ليكون المتاعان بينهما إن ربحا فيه كان بينهما وإن خسرا فيه كان الخسران عليهما فهذه شركة باطلة سواء كان العرضان من جنس واحد أو من جنسين. (الحاوي الكبير، كتاب الشركة، ج: 6، ص: 473)

وإن اشتركا على أن يبيع كل واحد منهما عروضه ويكون ثمنه بينهما لا يجوز لما تقدم. (الاختيار لتعليل المختار، كتاب الشركة، ج: 3، ص: 15)

‌‌القاعدة الخامسة: ‌تصرف ‌الإمام ‌على ‌الرعية ‌منوط ‌بالمصلحة. (الأشباه والنظائر لابن نجيم، الفن الأول، القاعدة الثانية: تصرف الإمام على ‌الرعية ‌منوط ‌بالمصلحة، ص: 104)

‌أمر ‌القاضي ‌لا ‌ينفذ ‌إلا ‌إذا ‌وافق ‌الشرع. (الأشباه والنظائر لابن نجيم، الفن الأول، تنبيه آخر، ص: 107)

العرض، بالتحريك: متاع الدنيا وحطامها، وأما العرض بسكون الراء فما خالف الثمنين الدراهم والدنانير من متاع الدنيا وأثاثها، وجمعه عروض، فكل عرض داخل في العرض وليس كل عرض عرضا. والعرض: خلاف النقد من المال؛ قال الجوهري: العرض المتاع، وكل شيء فهو عرض سوى الدراهم والدنانير فإنهما عين. قال أبو عبيد: ‌العروض الأمتعة التي لا يدخلها كيل ولا وزن ولا يكون حيوانا ولا عقارا. (لسان العرب، المادۃ: عرض، ج: 7، ص: 170)

(المادة 131) العروض جمع عرض بالتحريك وهي ما عدا النقود والحيوانات والمكيلات والموزونات كالمتاع والقماش وكذلك الكتاب، والملبوسات، واللحاف، والكرسي، والفراش، وما أشبهها من الأشياء كلها عروض أما العقار فليس بعرض. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، كتاب البيوع، مقدمة في بيان الاصطلاحات الفقهية، المادة: تعريف العروض، ج: 1، ص: 117)

وشرعا: (‌مبادلة ‌شيء ‌مرغوب ‌فيه[أي: المال] ‌بمثله). (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب البيوع، ج: 4، ص: 502)

‌والمال ‌قد ‌يكون ‌عينا، ‌وقد ‌يكون ‌منفعة، ويتعلق بالملك في كل واحد منهما أحكام.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الوصايا، فصل في حكم الوصية، ج: 7، ص: 385)

وإنما قال حق؛ لأن ‌حق ‌الإنسان ‌ما ‌يتولى ‌إثباته ‌وإسقاطه، ولازم؛ لأن صاحبه لا يتمكن من إبطاله. (البناية شرح الهداية، كتاب البيوع، باب خيار الشرط، مات من له الخيار، ج: 8، ص: 67)

‌الحقوق ‌جمع ‌حق، والحق لغة: الأمر الثابت الموجود. واصطلاحا يستعمله الفقهاء فيما ثبت لإنسان بمقتضى الشرع من أجل صالحه. (الموسوعة الفقهية الكويتية، مادة: ارتفاق، ج: 3، ص: 10)

(قوله: ‌لا ‌يجوز ‌الاعتياض ‌عن ‌الحقوق ‌المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب البيوع، مطلب في بيع الجامكية، ج: 4، ص: 518)

ثم قال: والحاصل أن المذهب عدم اعتبار العرف الخاص، ولكن أفتى كثير باعتباره، فأقول على اعتباره: ينبغي أن يفتى بأن ما يقع في بعض الاسواق من خلو الحوانيت لازم، ويصير الخلو في الحانوت حقا له فلا يملك صاحب الحانوت إخراجه منها ولا إجارتها لغيره ولو كانت وقفا، ‌وكذا ‌أقول ‌على ‌اعتبار ‌العرف ‌الخاص ‌قد ‌تعارف ‌الفقهاء النزول عن الوظائف بمال يعطى لصاحبها فينبغي الجواز، وأنه لو نزل له وقبض منه المبلغ ثم أراد الرجوع لا يملك ذلك، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم.(الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب البيوع، باب الصرف، ص: 450)

‌ورأيت ‌بخط ‌بعض ‌العلماء ‌عن ‌المفتي ‌أبي ‌السعود ‌أنه ‌أفتى بجواز أخذ العوض في حق القرار والتصرف، وعدم صحة الرجوع بالجملة فالمسألة ظنية والنظائر المتشابهة للبحث فيها مجال وإن كان الأظهر فيها ما قلنا فالأولى ما قال في البحر من أنه ينبغي الإبراء العام بعده والله سبحانه وتعالى أعلم.(رد المحتار على الدرالمختار، كتاب البيوع، مطلب في بيع الجامكية، ج: 4، ص: 520)

لائسنس:( انگ۔ا۔مذ) اجازت نامہ۔ پرمٹ۔اردوجمع: لائسنس۔لائسنسوں۔(فیروز اللغات جامع، مادہ: لائسنس، ص:1206)


فتویٰ نمبر : 6401/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں