بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غائب پیشاب گاہ والے جانور پرقربانی کا حکم


سوال

زید نے ایک بکرے کی قربانی کی جس کی پیشاب گاہ بجائے واضح ہونے کے ایک سوراخ کی شکل میں تھی،جو پیشاب کرتے وقت جلد کے اندر حرکت کرتے ہوئے دکھائی دے رہی تھی ، نیز بکریوں کو دیکھ کر مستی بھی کرتا تھا ،ذبح کے بعد اس کاگوشت بھی اچھی طرح پک گیا ،کیا اس بکرےکی قربانی درست ہوئی یانہیں؟نیز یہ بتائیں کہ یہ  خنثی ٰمشکل کے حکم میں ہے یانہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ قربانی  کےجانور کےلیے ضروری ہے کہ اس میں ایسا عیب نہ ہو جو جانورکی کسی  منفعت کو پوری طرح زائل (ختم)کرے یا حسن وجمال کو پوری طرح متاثر کرے،نیز واضح رہے کہ  جس جانور میں نر اور مادہ دونوں کی علامتیں موجود نہ ہوں، یا دونوں کی علامت  ہو وہ خنثی ہے ۔

صورت مسئولہ میں بکرےکی پیشاب گاہ کا غائب ہونا چونکہ  ایسا عیب نہیں ہےجس سے اس کی منفعت یاحسن وجمال پوری طرح متاثر ہوجائے ،اس لیے اس کی  قربانی شرعا درست ہوئی ہے ،نیز یہ بھی یاد رہے کہ   جانوروں میں  خصی جانوریا عضو تناسل کٹے ہو ئے جانور کی قربانی  جائز ہے ،اس لیے عضو تناسل غائب ہونے والےبکرے  کی قربانی میں کوئی حرج نہیں ہے۔

سوال میں مذکور بکرے میں چونکہ نر کی علامت پائی  جاتی ہے،لیکن صرف نظروں سے غائب ہے،لہذا یہ خنثی مشکل کے حکم میں نہیں آئےگا۔

 

كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية، وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع. (الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، ج:5، ص:299)

ويجوز المجبوب العاجز عن الجماع.(الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، ج: 5، ص: 297)


فتویٰ نمبر : 10667/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں