بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قیمت وصول کرنے سے پہلے وہی چیزکم قیمت میں خریدنا


سوال

 ایک ادارہ صارف سے کہتا ہے: ہم آپ کو ایک کار 12 لاکھ میں قسطوں پر بیچ رہے ہیں، اور یہی کارہم ایک دن بعد آپ سے 10 لاکھ میں خرید لیں گے "نقد"۔بعض علماء کہتے ہیں یہ حیلہ ہے اور سود ہے، بعض کہتے ہیں یہ دو علیحدہ بیوع ہیں۔کیا یہ بیع العینہ کی صورت ہے یا نہیں؟

جواب

جاننا چاہیے کہ کسی چیز کو بیچ کر قیمت وصول کر نے سے پہلے اسی خریدار سے دوبارہ کم قیمت پروہ چیزخریدنا شرعاً جائز نہیں کیونکہ یہ بیع عینہ کی صورت ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق جب ادارہ خریدارپربارہ لاکھ میں کار قسطوں میں بیچ دیتا ہے اور قیمت وصول ہونے سے پہلے ہی وہی کاراس سے  10 لاکھ نقد میں خرید تا ہےتو یہ  بیع عینہ کی صورت ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

 

قال: "ومن اشترى جارية بألف درهم حالة أو نسيئة فقبضها ثم باعها من البائع بخمسمائة قبل أن ينقد الثمن الأول لا يجوز البيع الثاني" وقال الشافعي رحمه الله: يجوز لأن الملك قد تم فيها بالقبض فصار البيع من البائع ومن غيره سواء وصار كما لو باع بمثل الثمن الأول أو بالزيادة أو بالعرض. ولنا قول عائشة رضي الله عنها: لتلك المرأة وقد باعت بستمائة بعدما اشترت بثمانمائة: بئسما شريت واشتريت، أبلغي زيد بن أرقم أن الله تعالى أبطل حجه وجهاده مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إن لم يتب؛ ولأن الثمن لم يدخل في ضمانه فإذا وصل إليه المبيع ووقعت المقاصة بقي له فضل خمسمائة وذلك بلا عوض، بخلاف ما إذا باع بالعرض لأن الفضل إنما يظهر عند المجانسة.(الهداية في شرح بداية المبتدي،ج:3،ص:48)

ومعناه الأمر ببيع ‌العينة مثل أن يستقرض من تاجر عشرة فيتأبى عليه ويبيع منه ثوبا يساوي عشرة بخمسة عشر مثلا رغبة في نيل الزيادة ليبيعه المستقرض بعشرة ويتحمل عليه خمسة؛ سمي به لما فيه من الإعراض عن الدين إلى العين، وهو مكروه لما فيه من الإعراض عن مبرة الإقراض مطاوعة لمذموم البخل.(الهداية في شرح بداية المبتدي،ج:3،ص:94)


فتویٰ نمبر : 3886/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں