بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قبضہ سے پہلے شیئرز بیچنا


سوال

ایک شخص نے اسٹاک مارکیٹ ایپ کے ذریعےآج صبح XYZ کمپنی کے 500 شیئرز خریدے، مگر وہ T+2 سسٹم کے تحت دو دن بعد ٹرانسفر ہوں گے۔ اسی دوران، اسی دن دوپہر میں اس نے وہی شیئرز مہنگے داموں آگے بیچ دیے،حالانکہ قبضہ نہ کیا تھا۔کیا بیع قبل القبض (قبضہ سے پہلے فروخت) کی یہ شکل جائزہے؟

جواب

واضح رہے کہ منقولی اشیاء کا بیع تب جائز ہےجب وہ قبضہ میں ہو قبضہ سے پہلے اس کی بیع جائزنہیں ۔ کیونکہ بیع قبل القبض میں غرراور دھوکہ کا اندیشہ ہوتاہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق شیئرزٹرانسفرہونے سے پہلےاس کا بیچنا شرعاً جائز نہیں۔

 

(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم «نهى عن بيع ما لم يقبض» ، والنهي يوجب فساد المنهي؛ ولأنه بيع فيه غرر الانفساخ بهلاك المعقود عليه؛ لأنه إذا هلك المعقود عليه قبل القبض يبطل البيع الأول فينفسخ الثاني؛ لأنه بناه على الأول، وقد «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع فيه غرر» ، وسواء باعه من غير بائعه، أو من بائعه؛ لأن النهي مطلق لا يوجب الفصل بين البيع من غير بائعه وبين البيع من بائعه، وكذا معنى الغرر لا يفصل بينهما فلا يصح الثاني، والأول على حاله.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،ج:5،ص:180)


فتویٰ نمبر : 3885/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں