بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

عورت کا نماز جمعہ میں شرکت کرنا


سوال

ایک عورت جامعہ میں تعلیم حاصل کر رہی ہے، جہاں باقاعدہ خطبہ اورجمعہ کی نماز کا انتظام ہوتا ہے۔ وہ ہرجمعہ کو عورتوں کی جائے نماز   میں شریک ہوکر نماز جمعہ اداکرتی ہے۔ کیا اس کی جمعہ کی نماز صحیح ہے؟ اوراگر وہ جمعہ پڑھ لےتو ظہرساقط ہوجائے گی یا نہیں

جواب

 جاننا چاہیے کہ عورتوں پرنماز جمعہ فرض نہیں لیکن اگر کوئی عورت جمعہ کی ادائیگی کے لیے نماز جمعہ میں شرکت کرے تواس کی نماز ادا ہوجائے گی اور نماز ظہربھی اس سے ساقط ہوگی ،نیزفقہاء کرام نے فتنہ اور فساد کے دورمیں عورتوں کا مسجد میں نمازکے لیے شرکت کو مکروہ تحریمی قراردیاہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اس عورت کے لیے عورتوں کی جائے نماز میں شریک ہوکر نماز جمعہ ادا کرنا کراہت کے ساتھ جائزہے،اس سےاس کی ظہر بھی ساقط ہوجائے گی۔

 

ومن لا جمعة عليه إن أداها جاز عن فرض الوقت، كذا في الكنز.(الفتاوى الهندية،ج:1،ص:145)

(‌ويكره ‌حضورهن الجماعة) ولو لجمعة وعيد ووعظ (مطلقا) ولو عجوزا ليلا (على المذهب) المفتى به لفساد الزمان.( ردالمحتارعلى الدر المختار،ج:1،ص:566)


فتویٰ نمبر : 10670/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں