بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ایک زمین تک جانے والے مشترکہ راستے کو اپنی دوسری زمین تک جانے کےلیے استعمال کرنا


سوال

  ایک شخص اپنی دو کنال زمین کےلیے ایک راستے میں شریک تھا ،اس دو کنال کے متصل  اس کی پانچ کنال  زمین مزید    بھی ہے لیکن اس کے لیے کوئی راستہ نہیں تھا  لیکن  اس شخص نے مشترکہ  راستے کے آخری  سرے پر  کسی ایسے شخص سے زمین خریدی جس کا اس راستے میں کوئی حق نہیں تھا ،یہ زمین ایک طرف راستے کے ساتھ اور دوسری طرف پانچ کنال پلاٹ کےمتصل ہے اب   پوچھنا یہ ہے کہ یہ شخص تو صرف دو کنال زمین کے لیے راستے میں شریک تھا ، تو کیا اس کے لیے یہ مشترکہ راستہ استعمال کرکے اس دو کنال کے متصل پانچ کنال والی زمین تک جانا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ راستہ جب عام نہ ہو اور مخصوص لوگ اس میں شریک ہوں تو ان کے شریک ہونے کا مطلب یہ ہوتا   ہے ،کہ :اس راستے پر ان لوگوں میں سے ہر ایک کو حق مرور حاصل ہے  ،اس لیے شرکا میں سے ہر ایک کو  یہ اختیار ہے کہ وہ اس راستے کو استعمال کرے ،چاہے جہاں بھی جانا ہو  وہ  اس راستے پر  مرور  کا حق رکھتا  ہے ،اس حق مرور سے اس کو  کوئی نہیں روک سکتا ،  جب تک راستے میں شریک لوگوں میں سے کسی کو تکلیف اور ضرر نہ پہنچتا ہو، البتہ اگر کوئی شریک راستے  پر  چلنے کے علاوہ کوئی اور تصرف کرنا چاہے ، مثلا: راستہ  کی طرف پرنالہ یا  چھجہ نکالنا،تو پھر تمام شرکا سے اجازت لینی ہوگی بغیر اجازت کے اس کو تصرف کا حق نہیں ہے   ۔

صورت  مسئولہ کے مطابق اس راستے کے استعمال کرتے ہوئے جب تک   شرکا میں سے کسی  کو ضرر اور تکلیف نہ  ہو ،تو یہ شخص اس راستے کو اپنی دونوں زمینوں تک جانے کے لیے استعمال  کرسکتا ہے،ہاں اگراس کے استعمال کرنے سے کسی شریک کوواقعی  ضرر پہنچتا ہو ، یا یہ ایسا تصرف کرنا چاہے جو حق مرور کے علاوہ ہو، تو پھرتمام شرکاسے  اجازت  لینا ضروری ہے۔

 

قال: "ويسع للذي عمله أن ينتفع به ما لم يضر بالمسلمين" لأن له ‌حق ‌المرور ولا ضرر فيه فليلحق ما في معناه به، إذ المانع متعنت، فإذا أضر بالمسلمين كره له ذلك لقوله عليه الصلاة والسلام: "لا ضرر ولا ضرار في الإسلام" قال: "وليس لأحد من أهل الدرب الذي ليس بنافذ أن يشرع كنيفا أو ميزابا إلا بإذنهم" لأنها مملوكة لهم ولهذا وجبت الشفعة لهم على كل حال، فلا يجوز التصرف أضر بهم أو لم يضر إلا بإذنهم. وفي الطريق النافذ له التصرف إلا إذا أضر لأنه يتعذر الوصول إلى إذن الكل، فجعل في حق كل واحد كأنه هو المالك وحده حكما كي لا يتعطل عليه طريق الانتفاع، ولا كذلك غير النافذ لأن الوصول إلى إرضائهم ممكن فبقي على الشركة حقيقة وحكما.(الهداية،كتاب الديات، باب ما يحدث الرجل في الطريق،ج:4،ص:483)

المادة (1220) الطريق الخاص كالملك المشترك لمن لهم فيه حق المرور ، فلذلك لا يجوز لأحد من أصحاب الطريق الخاص أن يحدث فيه شيئا سواء كان مضرا أو غير مضر إلا بإذن الآخرين.(مجلة الأحكام العدلية، الكتاب العاشر الشركات، الباب الثالث، المادة :1220،ص:235)

المادة (1225) إذا كان لأحد حق المرور في عرصة آخر فليس لصاحب العرصة أن يمنعه من المرور والعبور. إذا كان لأحد حق المرور لمنزله أو بستانه مجردا عن رقبة الطريق في عرصة آخر - ملك أو وقف - أو من أرضه الأميرية، فليس لصاحب العرصة أو المزرعة أن يمنعه من المرور والعبور من بعد اليوم.(درر الحكام شرح مجلة الأحكام ،الكتاب العاشر الشركات،الباب الثالث،المادة:1225،ج:3، ص:241)


فتویٰ نمبر : 6392/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں