بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عدالتی خلع کے بعد شوہر کا مہر کا مطالبہ اور بیوی کا مہر کی ادائیگی کامعاملہ حل کئے بغیر عدت کے بعد دوسرا نکاح کرنا


سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ میرے بیٹے طلحہ ہارون خان ولد ہارون خان سکنہ گھیبہ ، ڈاکخانہ سرائے صالح، تحصیل و ضلع ہری پور نےاکتوبر ۲۰۲۱کو ماہ نور ولد مسعود خان ، نامی لڑکی ، سکنه سید  آباد ، ڈاک خا نہ سرائے صالح ، تحصیل و ضلع ہری پور، صوبہ خیبرپختونخواہ سے شادی کی ۔ فریقین نے سات ماہ اکٹھے گزارے مگر بعد ازاں کسی بات پر خاوند بیوی ناراض ہوگئے تو بیوی نے عدالت میں خلع دائر کر دیا ۔ عدالت نے فریقین کو سنا اور مصالحت کی کوشش کی مگر لڑکی نے خاوند کے ساتھ رہنے سے انکار کر دیا ۔ عدالت نے لڑکے سے پوچھا تو اس نے لڑکی کو ساتھ رکھنے کے لئے خواہش ظاہر کی ۔ مگر عدالت نے لڑکی کے حق میں خلع کے احکامات صادر کر دیئے ۔ خلع کے احکامات سننے کے بعد لڑکے نے عدالت سے حق مہر کی واپسی کی درخواست کی ۔ لڑکی نے مہر کی واپسی مکمل نہیں کی بلکہ مہر میں لکھا ہوا 10 مرلے کا پلاٹ واپس ہو گیا اور پانچ تولے کے زیورات جو حق مہر میں لکھے ہوئے تھے اور لڑکی وصول کر چکی تھی اس سے مکر گئی کہ انہوں نے مجھے نہیں دیا تھا ۔ عدالت نے لڑکی کو گواہی پیش کرنے کو کہا جو وہ دو سال ہونے کے باوجود پیش نہ کر سکی اور مختلف حیلوں بہانوں سے کیس کو طوالت دے رہی ہے ۔ تو ایسی صورتحال میں:(۱)عدالت نے اپنے طور پر جو ضلع دیا تو وہ شرعی طور پر ٹھیک ہے ؟ (۲)آیا بعد میں لڑکے کی مہر کی واپسی کی درخواست خلع پر رضا مندی کو ظاہر کرتی ہے؟(۳)لڑکی کی جانب سے عوض خلع یعنی مہرکی ادائیگی کامعاملہ پورا نہ ہونے کی صورت میں  خلع کے نفاذ میں رکاوٹ ہے کہ نہیں ہے؟(۴)مذکورہ بالا صورتحال کے مطابق لڑکی نے عدت کے بعد دوسری شادی کرلی ہے تو کیا نکاح ثانی باطل ہے یا صحیح ؟

جواب

واضح رہے کہ خلع بھی دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے، جس کے لیے میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔ اسی بنا پر اگر عدالت شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع کا فیصلہ کر دے تو شرعاً یہ خلع معتبر نہیں ہوتا۔ البتہ اگر شوہر کی طرف سے صراحتاً یا دلالۃً رضامندی ظاہر ہو جائے تو پھرعدالتی خلع شرعاً معتبر سمجھا جائے گا۔نیزعوض کی ادائیگی کے بغیر بھی خلع مکمل ہو جاتا ہے، جس کے بعد بیوی عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

صورتِ مسئلہ میں، عدالت کے فیصلے کے بعد شوہر کا خلع کے عوض مہر کا مطالبہ کرنا،بظاہر اس کی رضامندی کی دلیل ہے، جس سے خلع مکمل ہو چکا ہے، کیونکہ خلع فریقین کی رضامندی کے بعد نافذ ہو جاتا ہے۔ مہر کی عدم ادائیگی خلع کے نفاذ میں مانع نہیں۔لہٰذا مذکورہ صورت میں خلع  ہو چکا ہے، اور عدت گزارنے کے بعد بیوی کے لیے دوسری جگہ نکاح کرنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔

 

وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة ولايستحق العوض بدون القبول". (ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الطلاق، باب الخلع،ج:3،ص:441)

 (و) الخلع (هو من الكنايات فيعتبر فيه ما يعتبر فيها) من قرائن الطلاق ....وحاصله أن دعواه الاستثناء مقبولة إلا إذا قال لي الخلع ببدل فإن البدل قرينة على قصد الخلع.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الطلاق ،باب الخلع، فائدة...، ج:3،ص:451)

وأما بيان ركن الطلاق ‌فركن ‌الطلاق ‌هو ‌اللفظ الذي جعل دلالة على معنى الطلاق لغة وهو التخلية والإرسال ورفع القيد في الصريح وقطع الوصلة ونحوه في الكناية أو شرعا، وهو إزالة حل المحلية في النوعين أو ما يقوم مقام اللفظ. ( بدائع الصنائع ،كتاب الطلاق، فصل في بيان ركن الطلاق، ج: 3، ص: 98)

إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية.(الفتاوی الهندية،الباب الثامن في الخلع،ج1،ص549،548)


فتویٰ نمبر : 7238/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں