بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

امام کاقاعدہ اولیٰ کیے بغیر کھڑے ہونے کی صورت میں بعض مقتدیوں کا قاعدہ اُولیٰ کرنا


سوال

نمازِ ظہر کی دوسری رکعت کے بعد امام قاعدہ اولیٰ کئے بغیر کھڑا ہو گیا۔ مقتدیوں میں سے کچھ نے امام کی پیروی کی، اور کچھ نے بیٹھ کر تشہد مکمل کیا پھر امام کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔1.اب سجدہ سہو کس پر واجب ہے؟2.اگر کچھ مقتدیوں نے قاعدہ اولیٰ بھی مکمل کیا اور سجدہ سہو بھی امام کے ساتھ کیا، تو کیا ان کی نماز درست ہے؟3.اگر کسی نے قاعدہ اولیٰ کیا  اور سجدہ سہو  نہ کیا تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

نماز میں فرض اور واجب ارکان کےاداکرنے میں امام کی متابعت  واجب ہے،جبکہ مسنون افعال میں سنت ہے۔اس طرح   امام  سے اگر کوئی رکن رہ جائےتو مقتدیوں کو بھی  وہ رکن چھوڑنا ہوگااگرامام کی مخالفت کر کے اس رکن کو ادا کیا تو امام کی مخالفت کی وجہ سے  اس نماز کا اعادہ وقت کے اندر کرنا لازمی ہے ۔نیز امام پر سجدہ سہولازم ہونےسے سب مقتدیوں پر لازم ہوگا۔

صورت مسئولہ میں امام کا قاعدہ اولیٰ چھوڑنے سے سب مقتدیوں پر سجدہ سہو لازم ہے،اور جن مقتدیوں نےامام کی اتباع نہ کی تو ان میں سے جس نے امام کے ساتھ سجدہ سہو کیا اس کی نماز صحیح ہوئی ہے اور جس نے نہیں کیا  اس پروقت کے اندر اپنی نماز کا اعادہ لازم ہے ۔

 

والحكم في التبع ثبت بوجود السبب في الأصل فكان ‌سهو ‌الإمام سببا لوجوب السهو عليه وعلى المقتدي.(بدائع الصنائع،كتاب الصلاة،فصل بيان من يجب عليه،ج:1،ص:175)

وبقي من الواجبات إتيان كل واجب أو فرض في محله، فلو أتم القراءة فمكث متفكرا سهوا ثم ركع أو تذكر السورة راكعا فضمها قائما أعاد الركوع وسجد للسهو وترك تكرير ركوع وتثليث سجود وترك قعود قبل ثانية أو رباعة، وكل زيادة تتخلل بين الفرضين وإنصات المقتدي ‌ومتابعة ‌الامام...ثم ذكر ما حاصله أنه تجب متابعته للإمام في الواجبات فعلا، وكذا تركا إن لزم من فعله مخالفته الإمام في الفعل كتركه القنوت أو تكبيرات العيد أو القعدة الأولى أو سجود السهو أو التلاوة فيتركه المؤتم أيضا.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة، ‌‌واجبات الصلاة،ج:1،ص:470)

(بترك) متعلق بيجب (واجب) مما مر في صفة الصلاة(سهوا) فلا سجود في العمد. (قوله بترك واجب) أي من واجبات الصلاة الأصلية لا كل واجب.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة، باب سجود السهو،ج:2،ص:80)

ولا يسجد في العمد للسهو - قيل - إلا في ثلاث:1 - ترك القعود الأول.2 - أو تأخيره سجدة من الركعة الأولى إلى آخر الصلاة.3- وتفكره عمدا حتى شغله عن ركن.(نورالإيضاح،كتاب الصلاة،باب سجودالسهو، ص:95)


فتویٰ نمبر : 10658/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں