بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کسی علاقے کووطن اصلی بنانےکے بعد پرانے علاقے میں نماز کا حکم


سوال

میرا گھر اکوڑہ خٹک میں ہے جہاں میں اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ مستقل رہتا ہوں، جبکہ میرا آبائی علاقہ تیرہ  ہےمیرے بھائیوں کے گھر وغیرہ  بھی وہاں  ہیں اور میرابھائیوں کے ساتھ کاروبار بھی مشترک ہے۔ کیا جب میں تیرہ جاؤں تو مجھے قصر نماز پڑھنی ہوگی یا پوری نماز؟

جواب

وطن اصلی وہ مقام ہے جہاں انسان کی  پیدائش ہوئی ہواور وہاں رہائش پذیر بھی ہویا جہاں پرمستقل رہنے کا ارادہ ہو اگر کوئی شخص اپنے آبائی علاقے کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ بیوی بچوں سمیت مستقل رہائش اختیار کر لے تو اب وہ نئی جگہ ہی اس کا وطن اصلی شمار ہوگا۔ ایسی صورت میں اگر وہ اپنے پرانے علاقے صرف پندرہ دن سے کم قیام کے ارادے سے جائے، تو وہ وہاں شریعت کی رو سے مسافر شمار ہوگا، اور اس پر قصر نماز پڑھنا لازم ہوگا۔

صورت مسئولہ میں  اگر سائل نے واقعی اکوڑہ خٹک میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ مستقل رہائش اختیار کر لی  ہو، تو اب تیراہ اس کا وطن اصلی نہیں رہا۔ جب بھی وہاں جائےگا اور قیام کا ارادہ پندرہ دن سے کم ہو، تو قصر نماز پڑھنی ہوگی۔

 

حدثنا أبو سعيد، - يعني مولى بني هاشم - حدثنا عكرمة بن إبراهيم الباهلي، حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي ذباب، عن أبيه: أن عثمان بن عفان صلى بمنى أربع ركعات، فأنكره الناس عليه، فقال: يا أيها الناس، ‌إني ‌تأهلت ‌بمكة ‌منذ ‌قدمت، وإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " من تأهل في بلد فليصل صلاة المقيم ".(مسند احمد ‌‌مسند عثمان بن عفان رضي الله عنه ،ج:1،ص:459،رقم الحديث:399)

(‌الوطن ‌الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه (يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما (لا غير و) يبطل (وطن الإقامة بمثله و) بالوطن (الأصلي و) بإنشاء (السفر) والأصل أن الشيء يبطل بمثله، وبما فوقه لا بما دونه(قوله أو تأهله) أي تزوجه. قال في شرح المنية: ولو تزوج المسافر ببلد ولم ينو الإقامة به فقيل لا يصير مقيما، وقيل يصير مقيما.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة،باب صلاة المريض،مطلب في الوطن الأصلي ووطن الإقامة،ج:2،ص:131)

الأوطان ثلاثة: وطن أصلي: وهو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده، وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها...فالوطن الأصلي ينتقض بمثله لا غير وهو: أن يتوطن الإنسان في بلدة أخرى وينقل الأهل إليها من بلدته فيخرج الأول من أن يكون وطنا أصليا، حتى لو دخل فيه مسافرا لا تصير صلاته أربعا، وأصله أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - والمهاجرين من أصحابه - رضي الله عنهم - كانوا من أهل مكة وكان لهم بها أوطان أصلية، ثم لما هاجروا وتوطنوا بالمدينة وجعلوها دارا لأنفسهم انتقض وطنهم الأصلي بمكة، حتى كانوا إذا أتوا مكة يصلون صلاة المسافرين، حتى قال النبي - صلى الله عليه وسلم - حين صلى بهم: «أتموا يا أهل مكة صلاتكم فإنا قوم سفر» ؛ ولأن الشيء جاز أن ينسخ بمثله.(بدائع الصنائع،كتاب الصلاة،فصل بيان ما يصير المسافر به مقيما،ج:1،ص:103)


فتویٰ نمبر : 10660/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں