بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

امام کوپوری نمازکی یقین کی صورت میں بعض مقتدیوں کا رکعات کم بتانا


سوال

 امام نے چار رکعت والی نماز پڑھائی۔ سلام کے بعد ایک مقتدی نے کہا کہ "آپ نے صرف تین رکعتیں پڑھائیں۔" امام کو پورا یقین ہے کہ وہ چار ہی رکعتیں تھیں۔ کچھ مقتدی امام کے ساتھ متفق ہیں، اور کچھ مخالف ۔1.کیا امام کو نماز لوٹانی ہوگی؟2.جن مقتدیوں کےہاں تین رکعات ہوئیں، ان کی نماز کا کیا حکم ہے؟3اگر امام بعد میں خود شک میں پڑ جائے، تو کیا قضاء واجب ہوگی؟

جواب

اگر مقتدیوں اور امام کےدرمیان رکعات وغیرہ میں اختلاف  ہوجائے تو اگر امام کو اپنے قول پر یقین ہو تو مقتدیوں کے قول کا کوئی اعتبار نہیں بالخصوص جب کہ بعض مقتدی بھی امام کے ساتھ متفق ہوں۔نیز ایک دفعہ یقین آجائے تو بعد میں  شک ہونے کا کوئی اعتبار نہیں ۔

صورت مسئولہ میں جب امام کو پورا یقین ہے کہ اس نے چار رکعات پڑھائی ہیں اورکچھ مقتدی بھی امام کے ساتھ متفق ہیں،تو اس صورت میں نماز پوری ہوئی ہے،جن مقتدیوں نے کہا کہ تین رکعات ہوئی ہیں ،ان کی نماز بھی پوری ہوئی ہے ،امام کو یقین ہونےکےصورت میں ان کے قول کا کوئی اعتبار نہیں  ۔ اورامام کوبعد میں شک ہونے سے یقین زائل نہیں ہوگا۔لہذا نماز کا لوٹانا ضروری نہیں ۔

 

رجل صلى وحده أو صلى بقوم فلما سلم أخبره رجل عدل إنك صليت الظهر ثلاث ركعات قالوا إن كان عند المصلي أنه صلى أربع ركعات لا يلتفت إلى قول المخبر، كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية،كتاب الصلاة، الباب الثاني عشر في سجود السهو،ج:1،ص:131)

ولو اختلف الإمام والقوم فلو الإمام على يقين لم يعد وإلا أعاد بقولهم. (قوله ولو اختلف الإمام والقوم) أي وقع الاختلاف بينهم وبينه، كأن قالوا صليت ثلاثا وقال بل أربعا أما لو اختلف القوم والإمام مع فريق منهم ولو واحدا أخذ بقول الإمام.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة، ‌‌باب سجود السهو،ج:2،ص:94)

المادة 4:اليقين ‌لا ‌يزول ‌بالشك نعم لأن اليقين القوي أقوى من الشك فلا يرتفع اليقين القوي بالشك الضعيف،أما اليقين فإنما يزول باليقين الآخر.(درالحكام في شرح مجلة الأحكام،(المادة 4):اليقين ‌لا ‌يزول ‌بالشك:1،ص: 22 )


فتویٰ نمبر : 10659/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں