بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حوض میں کتا گر جائے تو پانی کا حکم


سوال

اگر ایک حوض میں کتا گر کر مر جائے ،توکیا اس حوض میں نہانا اور اور اس سے وضو کرنا درست ہےیا نہیں ؟ رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

ماء کثیر اور حوض کبیر ( بڑے تالاب) کی تحدید میں فقہائے کرام سے مختلف اقوال منقول ہیں، ان میں سے راجح قول امام ابو حنیفہؒ کاہےکہ کسی مخصوص اور محدود مقدار کی بجائے ماء کثیر کی مقدار میں مبتلیٰ بہ کی رائے   معتبر ہے، احناف کے ہاں یہی قول مفتی بہ ہے۔

 لہذاجس علاقہ میں یہ حوض ہے اگر وہاں کے لوگ اس حوض کے پانی کو کثیر سمجھتے ہوں تو یہ بڑا حوض ہوگا ،ایسی صورت میں اگر کتے کے گرنے سے اس کے پانی کے تینوں اوصاف:رنگ،بواورذائقہ میں سے کوئی بھی وصف بدلا نہ ہو،تواس میں نہانا اور اس سے وضو کرنا درست ہوگا،تاہم کتا نکالنا پھر بھی ضروری ہے۔اور اگراس علاقہ کے لوگ اس پانی کو  قلیل سمجھتے ہوں ،تو  قلیل متصور ہوگااور کتا گرنے کی وجہ سے سارا پانی ناپاک ہوگا،اس میں نہانا اور اس سے وضو کرنا درست نہیں ہوگا۔

 

(قوله ثم اعلم أن أصحابنا اختلفوا في المسألة) ‌الماء ‌الكثير الذي إذا وقع فيه نجاسة لا يتنجس،اختلفوا في بيانه فقيل: يفوض إلى رأي المبتلى به ولا يقدر فيه شيء معين، وقيل يقدر إما بالتحريك أو المساحة أو تغير اللون على اختلاف الآراء.(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،كتاب الطهارة،أقسام الماء،باب الماء الذي لايتنجس،ج:1،ص:22)

وفي الينابيع قال أبو حنيفة:الغدير العظيم هو الذي لا يخلص بعضه إلى بعض، ولم يفسره في ظاهر الرواية، وفوضه إلى رأي المبتلى به وهو الصحيح، وبه أخذ الكرخي. وهكذا في أكثر كتب أئمتنا فثبت بهذه النـقـول المعتبرة عن مشائخنا المتقدمين مذهب إمامنا الأعظم أبي حنيفة، وأبي يوسف، ومحمد.(البحرالرائق،كتاب الطهارة، الوضوء بالماء ولو خالطه شيء طاهر فغير أحد أوصافه،ج:1،ص:79)

(وكذا) يجوز (براكد) كثير (كذلك) أي وقع فيه نجس لم ير أثره ولو في موضع وقوع المرئية، به يفتى، بحر.قال ابن عابدين: (قوله: لم ير أثره) أي من طعم أو لون أو ريح.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الطهارة،باب المياه،ج:1،ص:191)


فتویٰ نمبر : 10663/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں