بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

فصل کوپکنے سے پہلے فروخت کرنا


سوال

اکثرزمیندار اپنے کھیتوں میں کاشت کی ہوئی فصل گندم یا مکئی  کوپکنے سے پہلے فروخت کردیتے ہیں، پھرجب فصل کچھ وقت بعد پک جاتی ہے، تو خریداراس کو کاٹ لیتا ہے، توکیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ فصل خواہ جس چیز کی بھی ہو، جب تک اُگی نہ ہو، اس کا بیچنا جائزنہیں، البتہ اُگنے کے بعدپکنے سے پہلےاس شرط کے ساتھ اس کی بیع جائز ہوگی کہ پکنے تک اس فصل کو نہ کاٹنے کی شرط نہ لگائی ہو،چنانچہ جہاں کہیں کچی فصل اس شرط کے ساتھ فروخت کی جائےکہ وہ پکنے تک نہیں کاٹی جائے گی،تو یہ بیع فاسد ہوگی۔

صورت مسؤلہ میں اگر زمیندار"فصل کو پکنے تک نہ کاٹنے "کی شرط کے بغیرفروخت کرتا ہو، توجائزہے، خواہ بعد میں زمیندار کی اجازت اوررضامندی سے وہ فصل نہ بھی کاٹی جائے، البتہ اگریہ عقد اس شرط کے ساتھ مشروط ہوکہ فصل پکنے تک زمین میں ہی رہے گی، تو پھرمعاملہ فاسد ہونے کی وجہ سے جائزنہیں۔

 

وفی التجرید: بیع جمیع الثماروالزروع إذا كان موجدا جائز، وإن كان قبل بدوالصلاح إذا لم يشترط الترك، وفسر بدوالصلاح بكونه منتفعا به، ولو شرط في العقد تركها فالعقد فاسد، ولو إشترىٰ مطلقا، وتركه فإن لم يتناه عظمه، والترك بإذن البائع جاز، فطاب له الفضل. (خلاصة الفتاوى، كتب البيوع، ج:3، ص:34)


فتویٰ نمبر : 3877/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں