بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

میراث کی تقسیم سے پہلےبعض ورثاء کا اپنے حصوں سے دستبردار ہونا


سوال

باپ کی میراث میں بہنیں اپنے حصوں سے دستبردار ہونا چاہتی ہیں ،تو سوال یہ ہے کہ کیا ترکہ تقسیم ہونے سے پہلے بہنوں کا اپنے حصوں سے دستبردار ہونا ٹھیک ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ترکہ کی تقسیم سے پہلے کسی وارث کا ترکہ میں سے اپنےشرعی حصہ سے بلا عوض کسی دوسرے وارث یا ورثاء کے حق میں دست بردار ہوجانا شرعاً معتبر نہیں ہے، اس سے اس کا حق ختم نہیں ہوتا،البتہ ترکہ کی تقسیم ہوجانے کے بعد اپنا حصہ کسی کوہبہ کرنا یا کسی کے حق میں دستبردارہوجانا شرعاً جائزاورمعتبر ہے۔

صورت مسئولہ میں اگربہنیں اپنے حصوں سے دستبردار ہونا چاہتی ہوں،تو پہلے اپنے حصوں کووصول کرکے قبضہ وتصرف میں لےلیں، پھرجس کو چاہیں، اس کوہبہ کرسکتی ہیں۔

 

‌لو ‌قال ‌الوارث: ‌تركت ‌حقي ‌لم ‌يبطل ‌حقه؛ ‌إذ ‌الملك ‌لا ‌يبطل ‌بالترك. (الأشباہ والنظائر، ‌لو ‌قال ‌الوارث: ‌تركت ‌حقي ‌لم ‌يبطل ‌حقه؛ ‌إذ ‌الملك ‌لا ‌يبطل ‌بالترك، ص:272)

والشيوع من الطرفين فيما يحتمل القسمة مانع من جواز الهبة بالإجماع. (الفتاوى الهندية، كتاب الهبة، ج:4، ص:378)

‌الإرث ‌جبري ‌لا ‌يسقط ‌بالإسقاط. (العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية، كتاب الدعوى، ج:2، ص: 26)

‌وشرائط ‌صحتها ‌في ‌الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول كما سيتضح. (الدرالمختار، كتاب الهبة، ج:5، ص:668)


فتویٰ نمبر : 3756/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں