بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سکول کےاساتذہ کا روزانہ حاضری کے بارے میں تقسیم کار


سوال

سکول کے دواساتذہ کا آپس میں یہ طے کرنا کہ ہفتے میں (3) دن ایک ڈیوٹی کرے گا اوراپنے پیریڈ کے ساتھ دوسرے کے پیریڈ بھی لے گا، پھر باقی (3) دن دوسرا ڈیوٹی کرے گا اور اپنے پیریڈ کے ساتھ دوسرے کے پیریڈ بھی لے گا، تو کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے کسی تنخواہ دارملازم کویہ اجازت نہیں کہ وہ مالک کی اجازت کے بغیرخود ذمہ داری نبھانے کی بجائے اپنا کام کسی اور سے کرائےاور تنخواہ خود وصول کرے۔

صورت مسؤلہ میں اساتذہ کرام کا روزانہ حاضری کے بارے میں تقسیم کاراورایک دوسرے کی جگہ پیریڈ لینے کا معاہدہ کرنا جائزنہیں، کیونکہ ہرایک کی ملازمت کا ایگریمنٹ الگ الگ ہوا ہے، اس لیے ہرایک خود اپنی ملازمت کےاوقات میں طے شدہ ذمہ داری کو پورا کرنے کا پابند ہے، ایک دوسرے کی جگہ حاضری دینا شرعاً جائز نہیں، ورنہ ڈیوٹی میں کام چوری تنخواہ کے جوازپراثراندازہوگی۔

 

‌الأجير ‌الذي ‌استؤجر ‌على أن يعمل بنفسه ليس له أن يستعمل غيره. (شرح المجلة لسليم رستم باز، المادة:571، كتاب الإجارة،الباب السادس في بيان المأجور، ص:306)


فتویٰ نمبر : 3879/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں