بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

معدوم چیز کی بیع کر نا


سوال

فروٹ منڈی میں ایک خریدار  جب ایک آدمی کے لائے ہوئے فروٹ کو پسند کرکے  ایک دن  چالیس پچاس کریٹ  فروٹ خرید لیتا ہے تو دوسرے دن  کےلیے  بھی  اس کے ساتھ ریٹ طے کرلیتا ہے کہ  کل لانے والے چالیس پچاس کریٹ فروٹ میرے ہوگئے  کیا اس طرح فروٹ  کی خریدوفروخت جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

شرعی اعتبار سے اس طرح بیع جائز نہیں کہ جس میں عقد کے وقت نہ مبیع موجود ومتعین ہو اور نہ ہی ثمن ادا کیا جائے ،حدیث شریف میں اس کو "بیع الکالی بالکالی "(ادھار کا ادھار سے بیع کرنا ) کا نام دے کر ناجائز قرار دیا ہے ۔تاہم اگر کوئی آئندہ کے لیے عقد بیع کا وعدہ کرے اور پھر جب مبیع موجودومتعین ہو جائےتواس وقت خریدوفروخت کا معاملہ کیا جائے،تو اس طرح کرنا جائز ہے  ۔

صورت مسؤلہ میں ایک خریدار کا فروٹ کو پسند کرکے  اگلے دن آنے والے فروٹ  کے بارے میں یہ کہنا کہ  "وہ میرے ہوگئے "اور ریٹ طے کرنا  ،اگر اس سے مقصود محض خریداری کا وعدہ ہو اور پھر کل دوبارہ ایجاب وقبول کرکے معاملہ طے کیا جاتا ہو تو ایسا کرنا درست ہے ،لیکن  اگر اس سے  مقصود باقاعدہ بیع ہو تو ایسا کرنا بیع الکالی بالکالی کے زمرے میں داخل ہوکر ناجائز ہوگا۔

 

  عن ابن عمر رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه نهى ‌عن ‌بيع ‌الكالئ بالكالئ هو النسيئة بالنسيئة)المستدرک للحاکم، كتاب البيوع،ج:2،ص:66،رقم الحديث:2343)

( وما لا تصح ) إضافته ( إلى المستقبل ) عشرة ( البيع وإجازته وفسخه والقسمة والشركة والهبة والنكاح والرجعة والصلح عن مال والإبراء عن الدين ) لأنها تمليكات للحال فلا تضاف للاستقبال.( ردالمحتارعلی الدرالمختار،باب المتفرقات من أبوابها،مطلب ما يصح إضافته وما لا تصحج،ج:5،ص:256)


فتویٰ نمبر : 3876/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں