بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

گاڑیوں کی زکوۃ کا حکم


سوال

ایک شخص نے ایک فلیٹ بیچا اور اس رقم سے کاریں خرید کر بیچنے کا کاروبار شروع کیا، لیکن 6 ماہ بعد کاروبار بند کر دیا اور گاڑیاں اپنے لیے رکھ لیں۔ کیا سال مکمل ہونے پر ان گاڑیوں پر زکاۃ واجب ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی چیزتجارت کی نیت سے خریدی جائے اور پھراس میں نیت تبدیل کرکے اپنی ضروریات میں استعمال کرنے کی نیت کرلے تو اس صورت میں اس سے زکوۃ ساقط ہوجاتی ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی گاڑی بیچنے کاکاروبار بند کرےاورگاڑیاں اپنے لیے رکھ لےتواس پران کی قیمت میں زکوۃواجب نہیں ہوگی۔

 

وهذا بخلاف ما لو كان له عبد للتجارة، فنوى أن يكون للخدمة، بطل عنه الزكاة بمجرد النية؛ لأن في الفصل الأول الحاجة إلى فعل التجارة، وهو........ بفاعل فعل التجارة فالنية ما اتصلت بالمنوي. وفي الفصل الثاني الحاجة إلى ترك التجارة، وهو ترك التجارة حقيقة، فالنية اتصلت بالمنوي.)المحيط البرهاني.كتاب الزكاة،الفصل الثالث في بيان مال الزكاة۔ج:2،ص:247،248)


فتویٰ نمبر : 10672/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں