بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تعلیقِ طلاق میں یمینِ فور کی ایک صورت


سوال

یہ ہے کہ میرے سسر اپنی بیٹی کو جو کہ میری بیوی ہے، اپنے گھر بلا رہا تھا، میں نے اس سے یہ معذرت کی کہ چونکہ میں کل یا پرسوں سعودی عرب جا رہا ہوں، اس لیے فی الحال اس کواپنے گھر نہ بلایا جائے، لیکن وہ اپنی بات پر اصرار کر رہا تھا، چنانچہ اس نے میری ساس، اپنےبھائی اور چچازاد بیٹوں کو بھیجا کہ زبردستی داماد سے میری بیٹی لے آؤ۔ جب وہ لوگ ہمارے گھر آئے تو میں نے ان سے دوبارہ وہی معذرت کی کہ چونکہ کل میں مسافر ہونے والا ہوں، اس لیےاپنی بیوی کو تمہارے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دے سکتا، نیز میری بیوی بھی ان کے ساتھ جانے پر راضی نہیں تھی، لیکن اس کی ماں اوراس کے ساتھ آنے والےاس کو زبردستی لے جانے پر مجبور کر رہے تھے۔ جب اس کی ماں میری بات نہیں مان رہی تھی، تو میں نے بامرِ مجبوری اس کو مخاطب کرکے کہا: "کہ تا دے کور نہ بار بوتلہ، بیا بہ پہ ما طلاقہ وی، طلاقہ وی، طلاقہ وی" (اگر تم نے اُسے(یعنی میری بیوی کو) گھر سے باہرنکالا، توپھراُسے طلاق ہوگی، طلاق ہوگی، طلاق ہوگی)۔ اس پر اس کی  ماں نے مجھ سے کہاکہ اگر تو اس کو اس وجہ سے طلاق دے رہے ہو(کہ میں اس کو اپنے گھر لے جا رہی ہوں) تو طلاق دے دو، تو میں نے کہا کہ: "بیا بہ طلاقہ وی، بیا بہ طلاقہ وی، بیا بہ طلاقہ وی" البتہ اس دفعہ تیسری یا چوتھی بار یہ کلمات کہنے میں مجھے شک ہے، صحیح یاد نہیں ہے۔ یہ کہتے ہی گھر میں خاموشی طاری ہوگئی، میری ساس کی طبیعت بھی اچانک ناساز ہوگئی۔ اس کے بعد وہ لوگ میری بیوی کو اپنے ساتھ لے جانے سے رُک  گئے۔ یوں جب ڈھائی یا تین گھنٹے گزر گئے، اور میری ساس وغیرہ نے ہمارے گھر میں کھانا بھی کھایا۔ تو پھر میں نے اپنی طرف سے اجازت دے کرکہا کہ اب اس کو اپنے ساتھ لے جاؤ، اوریہ اس لیے کہا کہ خفگی کا تدارک ہو۔ اس کے بعد میری اجازت ہی سے میری بیوی اپنی ماں اور خاندان کے دوسرے لوگوں کےساتھ گھر چلی گئی۔ اب مسئلہ یہ کہ کیا یہ طلاقیں واقع ہوچکی ہے یا نہیں؟

واضح رہے کہ دو ہفتہ پہلےسائل کی والدہ بھی فوت ہوچکی تھی، اور میں پہلے ہی گھریلو مسائل کا شکار تھا، اورساتھ ہی اگلے دن میں سعودی عرب بھی جانےوالا تھا، اور ادھر سے میرے سسرال والوں کی طرف سے یہ آزمائش آگئی،چنانچہ میں  نے بامرِ مجبوری یہ طلاق کی باتیں کی ہے، ورنہ میرا ارادہ یہ نہ تھا کہ اس سے طلاقیں واقع ہوں۔

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کی طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے، تو شرط کے واقع ہونے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، اور اگر تین طلاقیں معلق کرے، تو شرط کے پورا ہونے کے ساتھ  تینوں  طلاقیں واقع ہوکر عورت مغلظہ بن جاتی ہے۔ البتہ اگر شوہر کی باتوں میں قرائن سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ اس نے خاص وقت میں شرط کے پائے جانے کے ساتھ طلاق کو معلق کیا ہے، توپھر یہ یمینِ فورکے حکم میں ہوگی۔ اور طلاق اسی وقت میں شرط پائے جانے کے ساتھ خاص ہوگی، اگراس کے بعد شرط واقع  ہوجائے تو  کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ کیونکہ یمینِ فور کا حکم یہ ہے کہ اگر فی الفور وہ کام نہ ہوجائے تو یمین سے بری ہوجاتا ہے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی حسبِ سوال  سائل نے بامر مجبوری اپنی ساس کو مخاطب کرکے یہ کہا ہوکہ: "کہ تا دے کور نہ بار بوتلہ، بیا بہ پہ ما طلاقہ وی، طلاقہ وی، طلاقہ وی" (اگر تم نے اُسے(یعنی میری بیوی کو) گھر سے باہرنکالا، توپھراُسے طلاق ہوگی، طلاق ہوگی، طلاق ہوگی)۔ اور سائل کی نیت خاص اسی وقت ساس کو اپنی بیٹی گھر سے باہرلے جانے سے منع کرنا تھا، مستقل طور پر ممانعت کی نیت نہیں تھی، اور سائل کےان الفاظ کے بعد ساس اور اس کے ساتھ آئے ہوئےلوگ اس وقت سائل کی بیوی کو گھر سے باہر لے جانے سے رُک  گئے، اور معاملہ رفع دفع ہوگیا، جب کہ ڈھائی تین گھنٹے بعد شوہر کی اجازت سے وہ اس کی بیوی لے گئے، تو یہ صورت یمین فور کی ہے، اس لیے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔

نیز چونکہ سائل نے اپنی بیوی کی تین طلاقیں ساس کے اُسے لے جانے کے ساتھ معلق کی تھی، اور عرف میں اس کا مقصد شوہر کی اجازت کے بغیر اس کی بیوی لےجانا ہوتا ہے، جب کہ بعد میں بیوی  شوہر کی اجازت سے اپنی ماں کے ساتھ گئی ہے، اس لیےبھی اس کی بیوی کو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔

 

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقاً مثل أن يقول لامرأته: إن دخلتِ الدار فأنتِ طالق. (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، ج:1، ص:488)

 (و) شرط (اللحنث في إن خرجت مثلا لمريد الخروج فعله فور) يعني ‌لو ‌أرادت ‌المرأة ‌الخروج مثلا فقال الزوج إن خرجت فأنت طالق فجلست ساعة ثم خرجت لم يحنث وهذه تسمى يمين الفور تفرد أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - بإظهارها ووجهه أن مراد المتكلم الزجر عن ذلك الخروج عرفا ومبنى الأيمان على العرف. (درر الحكام شرح غرر الأحكام، كتاب الأيمان، باب حلف الفعل، ج:2، ص:48)

(وشرط للحنث في) قوله (إن خرجت مثلا) فأنت طالق أو إن ضربت عبدك فعبدي حر (لمريد الخروج) والضرب (فعله فورا) لأن قصده المنع عن ذلك الفعل عرفا ومدار الأيمان عليه، وهذه تسمى يمين الفور تفرد أبو حنيفة رحمه الله بإظهارها ولم يخالفه أحد. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الأيمان، ‌‌باب اليمين في الدخول والخروج والسكنى والإتيان والركوب وغير ذلك، ج:3، ص:761-762)

 (قوله فورا) سئل السغدي بماذا يقدر الفور؟ قال بساعة، واستدل بما ذكر في الجامع الصغير: أرادت أن تخرج فقال الزوج إن خرجت فعادت وجلست وخرجت بعد ساعة لا يحنث حموي عن البرجندي، ولا يشترط لعدم حنثه إذا خرجت بعد ساعة تغير تلك الهيئة الحاصلة مع إرادة الخروج، يشير إليه قول الفتح تهيأت للخروج، فحلف لا تخرج فإذا جلست ساعة ثم خرجت لا يحنث لأن قصده منعها من الخروج الذي تهيأت له فكأنه قال إن خرجت الساعة، وهذا إذا لم يكن له نية فإن نوى شيئا عمل به شرنبلالية. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الأيمان، ‌‌باب اليمين في الدخول والخروج والسكنى والإتيان والركوب وغير ذلك، ج:3، ص:762)

وفي ‌طلاق ‌الأشباه ‌إن ‌للتراخي ‌إلا ‌بقرينة ‌الفور ومنه طلب جماعها فأبت فقال: إن لم تدخلي معي البيت فدخلت بعد سكون شهوته حنث. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الأيمان، ‌‌باب اليمين في الدخول والخروج والسكنى والإتيان والركوب وغير ذلك، ج:3، ص:763)

ومعنى كون إن للتراخي أنها تكون للتراخي وغيره عند عدم قرينة الفور، والمراد فعل الشرط الذي دخلت عليه، وما رتب عليه فإذا قال لها إن خرجت فكذا وخرجت فورا أو بعد يوم مثلا حنث إلا لقرينة الفور، فيتقيد به كما مر ومنه ما مثل به وكذا ما في الخانية إن دخلت دارك فلم أجلس فهو على الفور اهـ أي الجلوس على فور الدخول، وفيها أيضا إن بعثت إليك فلم تأتني فعبدي حر، فبعث إليه فأتاه ثم بعث إليه ثانيا فلم يأته حنث ولا يبطل اليمين بالبر حتى يحنث مرة فحينئذ يبطل اليمين. اهـ.... والحاصل: أن كلمة ولم تقع على الأبد كإن أتيتني ولم آتك إن زرتني ولم أزرك وقد تقع على الفور والمعتبر في ذلك معاني كلام الناس وكذلك تقع على قبل وعلى بعد كما مر وفي إن كلمتني ولم أجبك على بعد لأن الجواب لا يتقدم، وعلى الفور أيضا باعتبار العادة. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الأيمان، ‌‌باب اليمين في الدخول والخروج والسكنى والإتيان والركوب وغير ذلك، ج:3، ص:763)

والعرف في الشرع له اعتبار.....لذا عليه الحكم قد يدار.(رد المحتار على الدرالمختار، مطلب في السفر بالزوجة، ج:3، ص:147)

رجل قال: إن كان في بيته نار فامرأته طالق وفي بيته سراج إن حلف لأجل أن بعض جيرانه طلب منه النار ليستوقد منها نارا تطلق وإن كانت اليمين لأجل أنهم طلبوا الخبز أو نحوه أو لم يكن هناك سبب لا يحنث كذا في الخلاصة. (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب الرابع فى الطلاق بالشرط، ج:1، ص:433)


فتویٰ نمبر : 7239/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں