بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

خون نکلنے کے فوراً بعد کسی چیز سے پونچھنا


سوال

اگر کسی شخص کے جسم کے کسی حصے سے خون نکلے اور جیسے ہی خون ظاہر ہو، فوراً کسی چیز (جیسے کپڑے یا ٹشو) سے پونچھ دیا جائے، جس کی وجہ سے خون بہنے نہ پائے، تو کیا ایسی صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ اگرکسی عضو سے خون خارج ہو، تو اس سے وضو اس وقت ٹوٹتا ہے جب خون میں بہنے کی صلاحیت پائی جائے۔ چنانچہ اگر کسی عضو سے خون نکلے اور وہ اتنی مقدار میں ہو کہ اگر چھوڑ دیا جاتا تو بہہ جاتا، لیکن کپڑے یا ٹشو وغیرہ سے صاف کر دیا گیا،تو ایسی صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا،البتہ اگرپونچھے  گئے خون کی مقداراتنی کم تھی کہ اگرنہ پونچھاجاتاتونہ بہتا،تووضونہیں ٹوٹے گا۔

 

(وينقضه) خروج منه كل خارج (نجس) بالفتح ويكسر (منه) أي من المتوضئ الحي معتادا أو لا، من السبيلين أو لا (إلى ما يطهر) بالبناء للمفعول: أي يلحقه حكم التطهير.ثم المراد بالخروج من السبيلين مجرد الظهور وفي غيرهما عين السيلان ولو بالقوة، لما قالوا: لو مسح الدم كلما خرج ولو تركه لسال نقض وإلا لا، كما لو سال في باطن عين أو جرح أو ذكر ولم يخرج."(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب الطهارة، سنن الوضوء، ج: 1، ص: 134)


فتویٰ نمبر : 10656/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں