بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

داڑھی کے بال واش روم میں گرنا


سوال

 اگر داڑھی کے بال غسل کرتے وقت واش روم میں گر کر نالی میں جائیں تو اس کیا حکم ہے؟ جب کہ خود غیر اختیاری طور پر گرتے ہوں۔

جواب

 واضح رہے کہ داڑھی سے گرنے والے بالوں کو کسی پاک جگہ دفن کردینا چاہیے، کیونکہ بال انسان کے جسم کا حصہ ہیں اور انسانی اعضاء قابل احترام ہیں، البتہ اگر بال دفن کیے بغیر کسی پاک جگہ ڈال دیے جائیں، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، لیکن گندگی اور ناپاکی کی جگہ میں قصدا ڈالنا مکروہ اور ناپسندیدہ عمل ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں غسل  کے دوران  غیر اختیاری طور پرداڑھی کے جو بال واش روم میں گرجائیں یہ معاف ہے، البتہ جہاں  آسانی اور سہولت ہو تو داڑھی یا سر وغیرہ کے بالوں کو احترام سے زمین میں دفنادیا جائے یا کسی ایسی جگہ ڈال دیا جائے جہاں گندگی نہ ہو۔

 

فإذا قلم أطفاره أو جز شعره ينبغي أن يدفن ذلك الظفر والشعر المجزوز فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل يكره ذلك لأن ذلك يورث داء كذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوی الهندية،کتاب الکراهية، الباب التاسع عشر في الحتان والخصاء وحلق المرأة شعرها ووصلها شعر غيرها،ج:5،ص:358)


فتویٰ نمبر : 6385/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں