بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کی ایک صف کو ختم کر کے چپل رکھنےکے لیے جگہ بنانا


سوال

ہمارے مسجد میں چپل رکھنے کے لیے جگہ نہیں ہے کیا ہم مسجد کی ایک صف کو ختم کر کے اس میں چپل رکھنے کے لیے جگہ بناسکتے ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ زمین کے جس حصہ میں مسجد تعمیر کردی جائے، اور وہاں ایک مرتبہ نماز پڑھ لی جائے تووہ جگہ تا قیامت نمازکے لیے مختص ہوجاتی ہے،اُس جگہ کو دوسرے کسی مصرف میں استعمال کرنا  شرعًا جائز نہیں ہے۔

 لہذا صورتِ مسئولہ  کے مطابق مسجد کی صف  کوختم کر کے اس کی جگہ چپل کے لیے مختص  کرناجائز نہیں، چپل رکھنے کے لیے کوئی اورجائز متبادل حل ڈھونڈا جائے۔

 

(‌ولو‌خرب‌ماحوله واستغنى ‌عنه‌يبقى مسجداعندالامام،والثاني)أبدا إلى قيام الساعة(وبه يفتى)حاوي القدسي.(الدر المختار تنویر الأبصار،کتاب الوقف،ص:381)

‌إن ‌أرادوا ‌أن ‌يجعلوا ‌شيئا ‌من ‌المسجد ‌طريقا ‌للمسلمين فقد قيل: ليس لهم ذلك وأنه صحيح، كذا في المحيط. (الفتاوی الهندية،كتاب الوقف، الباب الحادي عشر في المسجد وما يتعلق به، الفصل الأول فيما يصير به مسجدا، ج: 2، ص: 457)

وفي قسمة فتاوي أبي الليث: الطريق إذا كان واسعاً، فبنى فيه أهل المحلة مسجداً للعامة، ولا يضر ذلك بالطريق، فلا بأس به....وإن أرادوا أن يجعلوا شيئاً من المسجد طريقاً للمسلمين، فقد قيل: ليس لهم ذلك وإنه صحيح. (المحیط البرهاني،کتاب الوقف، الفصل الحادي والعشرون في المساجد وهو أنواع:ج:6، ص:206)


فتویٰ نمبر : 6388/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں