بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مرتہن کےلیے مرہونہ چیز استعمال کرنا


سوال

میرا روزگار پراپرٹی کا ہے میں ہر قسم کے گھروں کی خریدوفروخت اور کرایہ کا لین دین کرتا ہوں میرے روزگار میں کبھی کبھی ایسا کیس بھی آتا ہے کہ جس میں ایک عام آدمی کو آٹھ یا دس لاکھ روپے نقد پیسوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے ،اورمیں اس بندے کو آٹھ یادس لاکھ روپے نقد دے دیتا ہوں جس کے بدلے میں وہ عام آدمی مجھے اپنا پورامکان یامکان میں ایک پورشن سیکورٹی یا گروی میں با قبضہ حوالہ کردیتا ہے، اور مجھے یہ عام آدمی مکمل اختیار بھی دےدیتا ہے کہ اس مکان میں خودرہائش  رکھویااگے کسی اور کو ماہانہ کرائےپر دے دو اور ماہانہ کرایہ تم لیا کرو میرا کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔اور یہ عام آدمی میرے ساتھ دو یاتین سال  کا ایگریمنٹ کرے اور میں پھر اس عام آدمی  کا پورا مکان یا ایک پورشن  کرائے پر ماہانہ پندرہ ہزار روپے پر دے دیتاہوں اور اس پندرہ ہزار روپے ماہانہ کرائےمیں سے ہر ماہ دو یاتین ہزار روپے کرایہ میں اس عام آدمی  کو نقد دیتا یا دو یاتین ہزار روپے میرے مذکورہ بالارقم  آٹھ یادس لاکھ روپے میں سے کٹوتی ہوتی ہے، اور ماہانہ مذکورہ کرایہ کی رقم میں سے بقایا رقم میں خود وصول کر تاہوں اور اس دو یاتین سال کے بعد جو کرایہ دو یاتین ہزار روپے کے حساب سے بنتا ہے وہ میرے سالم رقم سے کٹوتی کر کے بقایا رقم وہ عام آدمی مجھے واپس کر دے اور میں اس عام آدمی کو اس کا پورا مکان  یا اس ایک پورشن باقبضہ واپس ادا کردوں وضاحت فرمائے کہ یہ معاملہ درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص قرض کے بدلے میں دائن کے پاس کوئی چیزگروی رکھ دے، تو فقہاء کی اصطلاح میں اسے "رہن" کہا جاتا ہے۔ مرتہن کے لیے مرہونہ چیز سے فائدہ اٹھانا "سود" (ربا) کے حکم میں آتا ہے۔ لہٰذا مرتہن کے لیے کسی بھی صورت میں مرہونہ چیز میں تصرف کرنا یا اس سے ذاتی فائدہ حاصل کرناجائز نہیں ، خواہ راہن (یعنی مالک) اس کی اجازت دے یا نہ دے۔

صورت مسؤلہ میں پراپرٹی ڈیلر کو قرض( آٹھ،دس لاکھ روپے) کے بدلے جو گھر یا اس کا کچھ حصہ باقبضہ دیا جاتا ہے، وہ درحقیقت رہن (گروی)کے طور پردیاجاتا ہے،اس لیے وہ اس مکان میں نہ خود رہائش اختیار کرسکتا ہے اور نہ کسی اور کو کرایہ پر دے سکتا ہے۔

 

اَلرَهنُ هو حَبسُ شيءٍ مالیٍ بِحَقٍ یُمکِنُ اِستِیفائُه مِنه کَالْدَّینِ “. (الدرالمختار شرح تنويرالأبصار،كتاب الرهن ،ج:6،ص477،478)

 لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن؛ لأنه أذن له في الربا؛ لأنه يستوفي دينه كاملاً فتبقى له المنفعة فضلاً؛ فتكون رباً، (ردالمحتار على الدرالمختار،باب المرابحةوالتولية،فصل فى القرض،مطلب كل قرض جر نفعا حرام،ج:5،ص166)


فتویٰ نمبر : 3872/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں