بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

وصیت کرنے کا وقت اور طریقہ کار


سوال

وصیت کب کرنی چاہیے ، اوراس کا طریقہ کار کیا ہوگا،اور اس میں کیا کیا  لکھنا چاہیے؟

جواب

واضح ہے کے وصیت کی مختلف اقسام ہیں واجب، مستحب ، مکروہ اور مباح ۔ وصیت اس وقت واجب ہوتی ہےجب کسی کے ذمے حقوق ا لعباد میں سے کوئی حق ہو جیسے قرض، امانت وغیرہ یا حقوق اللہ میں سے کوئی حق ہو جیسے روزے یا نماز کا فدیہ وغیرہ اور زندگی میں وہ کسی وجہ سے ادا کرنے سے قاصر ہوتو اس حق کی ادائیگی کی وصیت کرنا واجب ہے، اور وصیت اس وقت مستحب ہوتی ہے جب حقوق اللہ یا حقوق العباد میں سے کوئی حق ذمہ پرنہ ہو بلکہ بطور احسان اور تبرع کسی کے لئے کسی چیز یا اس کی منفعت کی وصیت کرے اور مکروہ وصیت یہ ہےکہ کسی فاسق آدمی کے لئے وصیت کی جائے اور مباح وصیت کی صورت یہ ہےکہ جب کسی مالدار آدمی کے لئے وصیت کی جائے۔

 نیز یہ بھی یاد رہے کہ وصیت کی پہلی صورت جو کہ واجب ہے اس کے بارے میں احادیث میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اس میں تاخیر نہ کی جائے یہاں تک کہ دو دن بھی وصیت  کرنے  میں تاخیر نہ ہو جب کہ مستحب یا مباح وصیت کے لئے کسی خاص وقت کی تعیین نہیں کی ہے لہذا زندگی میں جب بھی چاہے کر سکتا ہے. اسی طرح  وصیت کی تمام صورتوں میں موصی (وصیت کرنے والا) کو اختیار ہےچاہے تو زبانی وصیت کرے یا وصیت کو تحریر کرے۔ دونوں صورتوں میں اس پر گواہ بھی قائم کرنے چاہیئے۔

 

عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ما حق امرئ مسلم له شيء يريد أن يوصي فيه يبيت ليلتين، ‌إلا ‌ووصيته ‌مكتوبة ‌عنده (صحيح مسلم ص:5 ص: 38)

و قال ملا علي القاري رحمه الله تحته: وقال داود وغيره من أهل الظاهر: هي واجبة بهذا الحديث، ولا دلالة فيه على الوجوب، لكن إن كان على الإنسان دين أو وديعة لزمه الإيصاء بذلك، ويستحب تعجيلها وأن يكتبها في صحيفة ويشهد عليه فيها، وإن تجدد له أمر يحتاج إلى الوصية به ألحقه بها، وبما قلنا يشهد عليه فيها لأنه لم تنفعه الوصية إذا لم يشهد عليها. ( مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ج: 5 ص: 256)

وفي الشريعة (الوصية تمليك ‌مضاف ‌لما ‌بعد ‌الموت) بطريق التبرع سواء كانت ذلك في الأعيان أو في المنافع (بدائع الصنائع، ج:6، ص: 90)

(وهي) على ما في المجتبى أربعة أقسام (واجبة بالزكاة) والكفارة (و) فدية (الصيام والصلاة التي فرط فيها) ومباحة لغني ومكروهة لأهل فسوق (وإلا فمستحبة) ولا تجب للوالدين والأقربين لأن آية البقرة منسوخة بآية النساء و قال ابن عابدين تحته: (قوله وهي على ما في المجتبى) عبارته والوصية أربعة أقسام واجبة كالوصية برد الودائع والديون المجهولة.( رد المحتار علی الدر المختار ج:6، ص: 648)


فتویٰ نمبر : 6571/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں