بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

Contract for Difference کا حکم


سوال

ایک موبائل ایپ مثلاً(Toro یا( Trading212 کے ذریعے کوئی چیزمعین مدت تک خریدی جاتی ہے اس کی نہ کوئی ڈلیوری ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی قبضہ ہوتی ہے معین مدت آنے پراس چیز کی قیمت کو دیکھا جاتا ہے اگراسکی قیمت بڑھ چکی ہوتوبائع مشتری کووہ زائد قیمت حوالہ  کردیتاہے لیکن اگر قیمت گھٹ چکی ہوتو مشتری اس کمی کے بقدررقم بائع کو حوالہ کردیتا ہے شرعا اس  معاملہ کا کیا حکم ہے جس میں حقیقتاً کوئی چیزخریدی نہیں جاتی بلکہ اس میں “Contract for Difference” (CFD) ہوتا ہے۔کیا ایسا عقد کرنا جائز ہے اوراس سے حاصل شدہ نفع  حلال ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ جس عقد میں مبیع موجود نہ ہو یا مبیع پر قبضہ ممکن نہ ہو بلکہ صرف مبیع کی قیمت کے اتار چڑھاؤسے نفع اور نقصان مل رہا ہو توشرعاً وہ معاملہ جوےکے زمرے میں آکر ناجائزمتصورہوگا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  چونکہ مذکورہ ایپ کے ذریعے معین مدت تک نہ ہی کوئی حقیقی چیز خریدی جاتی ہے اورنہ ہی اس پر قبضہ حاصل ہوتا ہے بلکہ معین تاریخ کوقیمت زیادہ ہونے پر مشتری کو زائد قیمت ملتی ہے اورگھٹنے کی صورت میں مشتری کو نقصان اٹھانا پڑتا ہےاس لیے یہ قمار یعنی جوا ہے  چنانچہ اس طرح کا معاملہ کرناناجائز ہے اوراس سے حاصل ہونے والی  آمدنی حلال نہیں ۔

 

القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص.(رد المحتارعلى الدرالمختار، فصل في البيع، ج:6، ص:403)

وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا ‌مالا ‌متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم.(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب البیوع،ج:4،ص:505)


فتویٰ نمبر : 3874/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں