بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

زنده وارث كو فوت شده ظاہر كركے اس كی جائيداد كو مسجد كے لئے وقف كرنا


سوال

ميرےبھائیوں نے والد کی وفات کے بعد دھوکے اور فراڈ سے اپنی ایک بہن کو فوت شدہ ظاہر کر کے (حالانکہ وہ بقید حیات ہے) تمام جائیداد اپنی مرضی کے مطابق آپس میں تقسیم کر لی اوراب اس میں سے مسجد کےلیے بھی جگہ وقف کرنا چاہتےہیں۔ تو ایسے دھوکے اور فراڈ سے بہن کا حق غصب کر کے اپنے حصے کے ساتھ شامل کر نا اوراس میں سےمسجد کے لیے جگہ وقف کرنےکا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے  کہ والد کی میراث میں بیٹوں کے ساتھ بیٹیوں کا بھی حق ہے  لہذا والد کی وفات کے بعداس کی میراث  میں سے جن ورثا کا حق بنتا ہو ں اور وہ زندہ ہوں  تو ان کے مابین   میراث صحیح طریقے سےتقسیم کرنا لازمی اور ضروری ہے، تاکہ اس  میں جو حقیقی وارث بنتا ہے اس کو اپنا حق مل  سکے۔

 صورت مسؤلہ میں  بھائیوں کا بہنوں کوحصہ نہ دینااوران کو فوت شدہ ظاہر کرکےآپس میں تقسیم کرنا شرعا معتبر نہیں اور وقف کے لئے شرط یہ ہے کہ موقوفہ شے اگر قابل تقسیم ہو توصحیح طریقے سے تقسیم کے بعدہی وقف درست قراردیا جائے گا ،مشاع چیز کا وقف درست نہیں ،چنانچہ بہنوں کو حصہ دیے بغیر مشترکہ جایئداد میں سے مسجد کے لئے  وقف کرنا جائز نہیں ۔

 

‌ومنها) ‌الملك ‌وقت ‌الوقف حتى لوغصب أرضا فوقفها ثم اشتراها من مالكها ودفع الثمن إليه أو صالح على مال دفعه إليه لا تكون وقفا كذا في البحر الرائق رجل وقف أرضا لرجل آخر في بر سماه ثم ملك الأرض لم يجز وإن أجاز المالك جاز عندنا( الفتاوى الهندية،كتاب الوقف ،الباب الأول في تعريف الوقف،وركنه،وشرائطه، ج: 2، ص353)


فتویٰ نمبر : 6380/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں