بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

میاں بیوی کے درمیان گھر کے سامان میں اختلاف ہونا


سوال

اگر میاں بیوی کے درمیان ایسے سامان میں اختلاف ہو جو کسی کے ساتھ خاص نہ ہو (میاں بیوی میں سے کسی کی خصوصیت معلوم نہ ہوتی ہو)تو اس صورت میں سامان کس کا ہوگا؟کس کا قول معتبرہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ جب دو فریق کے درمیان کسی مال یا حق کے بارے میں نزاع پیدا ہو جائے، تو شرعی قاعدہ یہ ہے کہ مدعی پر گواہ لانا لازم ہوتا ہے، اور اگر وہ گواہ پیش نہ کرسکے تو مدعی علیہ سے قسم لی جائے گی۔لہٰذا اگر میاں بیوی کے درمیان گھر کے سامان میں اختلاف ہو جائے، اور دونوں کسی چیز کو اپنی ملکیت قرار دیں، تو اس بارے میں اصول یہ ہے کہ:اگر کسی کے پاس بھی پا گواہ نہ ہوں توجو سامان کسی ایک کے لیے مخصوص یا موزوں معلوم ہو، تو قسم کے ساتھ وہ اس فریق کی ملکیت سمجھی جائیں گی۔اورجو سامان دونوں کے استعمال میں یکساں ہو اور بظاہر کسی ایک کے ساتھ خاص نہ ہو (جیسے برتن، بستر، فرنیچر وغیرہ)، تو چونکہ شریعت کی رو سے بیوی اور اس کا مال، شوہر کی کفالت و ذمہ داری میں ہوتا ہے،اور عمومی طور پر شوہر کو ہی گھر کے وسائل پر قابض مانا جاتا ہے،لہذا ایسی صورت میں بیوی مدعیہ ہوگی۔ اس لیےاگر وہ گواہ پیش کر دے تو اس کا دعویٰ تسلیم کیا جائے گا۔اور اگر گواہ پیش نہ کر سکے، تو شوہر قسم کھائے گااور اس کا قول معتبر مانا جائے گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر میاں بیوی کے درمیان گھرکےایسے سامان میں اختلاف ہوکہ جو ان میں سےکسی کے ساتھ خاص نہ ہو،تو اس صورت میں اگرعورت دو معتبرگواہ پیش کرے تو سامان اس کا ہوگا،ورنہ(گواہ نہ ہونے کی صورت میں) شوہر کا قول مع الیمین معتبر ہوگا۔

 

عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبته: «‌البينة ‌على ‌المدعي، واليمين على المدعى عليه».(سنن الترمذي،أبواب الأحكام،باب ماجاء في أن البينة على المدعي واليمين على من أنكر،رقم الحديث:1341)

(وإن اختلف الزوجان) ... (في متاع) هو هنا ما كان في (البيت) ولو ذهبا أو فضة (فالقول ‌لكل ‌واحد ‌منهما ‌فيما ‌صلح ‌له ‌مع ‌يمينه) إلا إذا كان كل منهما يفعل أو يبيع ما يصلح للآخر فالقول له تعارض الظاهرين درر وغيرها (والقول له في الصالح لهما) لأنها وما في يدها في يده والقول لذي اليد بخلاف ما يختص بها لأن ظاهرها أظهر من ظاهره وهو يد الاستعمال، (ولو أقاما بينة يقضى ببينتها) لأنها خارجة. (الدرالمختار،كتاب الدعوى،باب التحالف ، ج:5،ص:563،564)


فتویٰ نمبر : 6383/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں