بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قیام اور رکوع پر قادر اور سجدہ سے عاجز شخص کی نماز


سوال

میری والدہ کے گھٹنوں میں تکلیف ہے جس کی وجہ سے وہ پاؤں سمیٹ کرنہیں بیٹھ سکتی اورتشہد کی حالت میں زمین پر بیٹھنا اس کے لیے مشکل ہے، اس لیے جب وہ کرسی پر نماز پڑھتی ہے تو قیام اور رکوع باقاعدہ طور پرادا کرسکتی ہے، لیکن سجدے اشارے سے کرتی ہیں، اور جب زمین پر بیٹھ کرنماز پڑھتی ہے تو دونوں پاؤں آگے پھیلا کر بیٹھتی ہے، اور رکوع و سجدہ دونوں اشارے سے کرتی ہے، اب سوال یہ ہے کہ ان دونوں صورتوں میں سے کون سی صورت اس کے لیے شرعاً افضل اور بہتر ہے؟ کرسی پر نماز پڑھنا، جس میں قیام و رکوع  ادا ہو، اور سجدے اشارے سے ہوں، یا زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا، جس میں رکوع و سجدہ دونوں اشارے سے ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ قیام اور رکوع یہ دونوں سجدہ کے لیے وسیلہ ہیں، اس لیے جو شخص زمین پر سجدہ کرنےسے عاجز ہو تو اس سے قیام اور رکوع کی فرضیت بھی ساقط ہو جاتی ہے۔ ایسا شخص اگر کرسی یا زمین پر نماز پڑھ رہا ہو تو اس کے لیے دونوں صورتیں جائز ہیں، کھڑے ہوکرقیام اور رکوع کرے پھر کرسی پر بیٹھ کر دونوں سجدے سر کے  اشارے سے کرے، یا مکمل نماز بیٹھ کر بغیر قیام کےاوررکوع و سجدے سر کے اشارے سے ادا کرے، یہ دونوں طریقے درست ہیں، تاہم دوسری صورت یعنی مکمل نماز بیٹھ کراشارے سے ادا کرناایسے شخص کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ کیوں کہ اس صورت میں (زمین پر بیٹھنے کی حالت میں) سجدے کااشارہ زمین کے زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے حقیقی سجدے کے زیادہ قریب اور مشابہ ہوتا ہے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی والدہ کے لیے واقعی تشہد کی حالت میں بیٹھنا دشوار ہو، تو اس کے لیے کرسی اور زمین پر بیٹھ کردونوں طریقوں سے نماز پڑھنا جائز ہے، لیکن دوسری صورت یعنی مکمل نماز بیٹھ کر بغیر قیام کے، رکوع و سجدے اشارے سے ادا کرنا زیادہ بہتر ہے، بشرطیکہ سجدہ کے اشارے کو رکوع کی بنسبت ذرا زیادہ جھکاؤ کے ساتھ کرے، تاکہ سجدے کا اشارہ رکوع سے ممتاز ہو اور حقیقی سجدے کے زیادہ قریب معلوم ہو۔

 

وفي ‌الذخيرة: ‌رجل ‌بحلقه ‌خراج إن سجد سال وهو قادر على الركوع والقيام والقراءة يصلي قاعدا يومئ؛ ولو صلى قائما بركوع وقعد وأومأ بالسجود أجزأه، والأول أفضل لأن القيام والركوع لم يشرعا قربة بنفسهما، بل ليكونا وسيلتين إلى السجود. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب صلاة المريض، ج:2، ص:98)

(وإن ‌تعذرا) ‌ليس ‌تعذرهما ‌شرطا ‌بل ‌تعذر ‌السجود ‌كاف (‌لا ‌القيام ‌أومأ) بالهمز (قاعدا) وهو أفضل من الايماء قائما لقربه من الارض (ويجعل سجوده أخفض من ركوعه) لزوما (ولا يرفع إلى وجهه شيئا يسجد عليه) فإنه يكره تحريما. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الصلاة، باب صلاة المريض، ج:2، ص:97-98)

(‌قوله ‌ويجعل ‌سجوده ‌أخفض ‌إلخ) ‌أشار ‌إلى ‌أنه يكفيه أدنى الانحناء عن الركوع وأنه لا يلزمه تقريب جبهته من الأرض بأقصى ما يمكنه كما بسطه في البحر عن الزاهدي. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب صلاة المريض، ج:2، ص:98)


فتویٰ نمبر : 10650/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں