بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بایو میٹرک حاضری نہ لگانے پرملازم کوغیر حاضر شمار کرنا اور تنخواہ کاٹنے کا حکم


سوال

ایک ادارے نے اسٹاف کی حاضری کے لیے بایومیٹرک فنگر پرنٹ مشین نصب کی ہے، اور واضح طور پر ہدایت دی ہے کہ انگلی لگائے بغیر حاضری شمار نہیں کی جائے گی، چاہے ملازم پوری دیانتداری سے سارا دن ڈیوٹی پر موجود رہے۔ اب سوال یہ ہے کہ: اگر کوئی ملازم مقررہ وقت پر حاضر ہو، مکمل ڈیوٹی کرے، مگر انگلی لگانا بھول جائے، تو کیا ادارے کی طرف سے اُسے غیر حاضر شمار کرنا شرعاً جائز ہے؟ اور کیا تنخواہ کاٹنا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی ادارے کےملازمین شرعاً اجیر خاص کی حیثیت رکھتےہیں، اور اجیرِ خاص جس معاہدے اور جن شرائط کے ساتھ ادارے میں ملازمت اختیار کرتا ہے، تو اس پر لازم ہے کہ حسبِ معاہدہ ان ضوابط کی پابندی کرے، اسی طرح وہ ملازمت کے مقررہ وقت پر حاضر رہنے سے اجرت(تنخواہ) کا مستحق ہوتاہے، اگر وہ ملازمت کے اوقات میں حاضر نہیں رہا یا تاخیر سےآیا، تو اس غیر حاضری اور تاخیر کے بقدر تنخواہ کا وہ مستحق نہیں ہوتا۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کوئی ملازم مقررہ وقت پر حاضر ہو، اور پوری ڈیوٹی بھی انجام دے، لیکن انگلی لگانا(یعنی بایومیٹرک حاضری ) بھول جائے، اور ادارے کو اس کی حاضری کا علم نہ ہوسکے، توادارے کے لیے اپنے ضابطے کےمطابق اُسے غیر حاضر شمار کرکے اس سے تنخواہ کاٹنا درست ہے۔ تاہم اگر ادارے کو کسی ذریعے سے مثلاً: کیمرے کی ریکارڈنگ یا معتبر افراد سے یہ معلوم ہوجائے کہ ملازم مقررہ وقت پر حاضر تھا اور ڈیوٹی بھی مکمل سرانجام دی  ہے، تو پھر دیانتاً اس کو غیر حاضر شمار کرنا، اور اس دن کی تنخواہ ضبط کرنا جائز نہ ہوگا۔

 

عن عمرو بن عوف المزني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «الصلح جائز بين المسلمين، إلا صلحا حرم حلالا، أو أحل حراما، ‌والمسلمون ‌على ‌شروطهم، ‌إلا ‌شرطا حرم حلالا، أو أحل حراما». (سنن الترمذي، أبواب الأحكام، باب ما ذكر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصلح بين الناس، ج:3، ص:627)

وإن ذكر البيع من غير شرط ثم ذكرا الشرط على الوجه المعتاد جاز البيع ويلزمه الوفاء بالميعاد؛ ‌لأن ‌المواعيد ‌قد ‌تكون ‌لازمة قال عليه الصلاة والسلام «العدة دين» فيجعل هذا الميعاد لازما لحاجة الناس إليه. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب الإكراه، ج:5، ص:184)

الأجير يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشرط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذا امتنع لا يستحق الأجرة. ومعنى كونه حاضرا للعمل أن يسلم نفسه للعمل ويكون قادرا وفي حال تمكنه من إيفاء ذلك العمل. أما الأجير الذي يسلم نفسه بعض المدة، فيستحق من الأجرة ما يلحق ذلك البعض من الأجرة. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، المادة:425، ج:1، ص:458)


فتویٰ نمبر : 3870/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں