بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

کمپنی کا زمیندار کو آئندہ فصل اسی کے ہاتھ فروخت کرنے کی شرط پر کسان پیکج دینا


سوال

ایک زمیندار کو کسان پیکج دیا جاتا ہے جس میں کھاد اور بیج شامل ہوتے ہیں، اور شرط یہ ہوتی ہے کہ کسان اگلی فصل صرف کمپنی کو ہی فروخت کرے گا۔ کیا اس قسم کا مشروط عقد جائز ہے؟ نیز اگر فصل میں نقصان ہو تو کیا کسان پر معاہدے کی پابندی باقی رہے گی؟

جواب

واضح رہے کہ كسی کو بغیرعوض کے کسی چیز کا مالک بنانا "ہبہ"کہلاتا ہے، اگر ہبہ کو کسی مناسب(ملائم) شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو یہ جائز ہے، البتہ اگر ہبہ ایسی شرط کے ساتھ معلق ہوجو عقد کے خلاف ہو تو ایسی صورت میں خود ہبہ توجائز ہوگا، لیکن وہ شرط فاسد ہوگی۔

صورتِ مسئولہ میں کمپنی کی جانب سے زمیندار کو کسان پیکج کے طور پر کھاد اور بیج دینا شرعاً ہبہ ہے، اور اس کے ساتھ یہ شرط لگانا کہ آئندہ فصل صرف اسی کمپنی کو فروخت کی جائے، شرطِ فاسد ہے۔ لہٰذا زمیندار پر لازم نہیں ہے کہ وہ آئندہ فصل اسی کمپنی کے ہاتھوں فروخت کرے، خواہ فصل میں نفع ہویا نقصان ہو۔

 

لو قال وهبتك كذا ‌بشرط ‌أن ‌تخدمني شهرا فإن هذا شرط فاسد لا تبطل الهبة به كما سيأتي قبيل الصرف، وظاهر ما هنا أنه لو خدمه لم يكن فيه بأس. (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب البيوع، باب الربا، ج:5، ص:170)

وفي جامع الفصولين: ‌ويصح ‌تعليق ‌الهبة ‌بشرط ملائم كوهبتك على أن تعوضني كذا، ولو مخالفا تصح الهبة لا الشرط اهـ. (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب البيوع، باب المتفرقات من أبوابها، ج:5، ص:249)


فتویٰ نمبر : 6381/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں