بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دورانِ ملازمت کمپنی کی مصنوعات سے ذاتی تجارت


سوال

 ایک شخص پرفیوم بنانے والی کمپنی میں ملازم ہے، وہ اس کمپنی میں روزانہ آٹھ گھنٹے کام کرتا ہے اور کمپنی اُسے ماہانہ تنخواہ بھی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ ملازم کمپنی سے پرفیوم خرید کراپنے گاؤں بھیج دیتا ہے، پھربعد میں وہ یہ پرفیوم 10٪ منافع کیساتھ فروخت کرتا ہے، تو اس کا یہ عمل کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی خاص فرد، کمپنی یا ادارے کی طرف سے کسی خاص وقت یا متعین مدت تک کام کرنے پر مامور ہو، تو اُسے اجیرِ خاص کہا جاتا ہے۔ اجیرِ خاص کا وقت مستاجر کے لیے مخصوص ہوتا ہے، اس لیے مقررہ وقت کے دوران وہ مستاجر کی اجازت کے بغیر، فرائض کی ادائیگی کے سوا نہ کسی اور کے لیے کام کر سکتا ہے اور نہ ہی اپنا ذاتی کام انجام دے سکتا ہے۔

صورتِ مسؤلہ میں اگرملازم کا کمپنی سے پرفیوم خرید کر گاؤں بھیجنا اس کےذمہ لازم  کام میں خلل کا سبب بنتا ہو، توپھراس کے لیے یہ کام جائز نہیں ہوگا۔ البتہ اگراس عمل سے  اس کے ذمہ لازم کام میں کسی قسم کی کوتاہی یا خلل واقع نہ ہوتا ہو تو پھر اس کے لیے کمپنی سے پر فیوم خرید کر گاؤں بھیجنا جائز ہے۔

 

(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير واحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى..... ‌وليس ‌للخاص ‌أن ‌يعمل ‌لغيره، ‌ولو ‌عمل ‌نقص ‌من ‌أجرته ‌بقدر ‌ما ‌عمل. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، ج:6، ص:69-70)


فتویٰ نمبر : 3869/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں