بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

آٹے، چینی یا دیگر خوردنی اشیاء کی بوریوں پر بیٹھنا


سوال

ہماری دکان پر اکثر لوگ ملاقات اور گپ شپ کے لیے آتے ہیں اور بینچوں پر بیٹھتے ہیں، لیکن بعض اوقات جب بیٹھنے کی جگہ کم ہو جاتی ہے تو کچھ لوگ آٹے، چینی یا دیگر خوردنی اشیاء کی بوریوں یا کارٹنوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ کیا آٹے، چینی یا دیگر خوراک کی اشیاء پر بیٹھنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ کیا یہ عمل کھانے کی چیزوں کی بے حرمتی کے زمرے میں آتا ہے؟

جواب

شریعتِ مطہرہ نے اللہ تعالی کی عطاکردہ نعمتوں کا ادب واحترام کا حکم دیا ہے، رزق اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے عظیم نعمت ہے، جو انسان کی زندگی اور بقا کا ذریعہ ہے، اس کی بدولت انسان میں چلنے پھرنے اور اپنےرب کی عبادت کرنے کی قوت پیدا ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر سلیم الطبع انسان رزق کی قدردانی کرتا ہےاور اس کے ضیاع کو ناشکری سمجھتا ہے۔

صورتِ مسئولہ میں آٹے، چینی یا دیگر خوردنی اشیاء کے بوریوں یا کارٹنوں پر بیٹھنے میں کوئی گناہ نہیں، البتہ یہ عمل ادب وشائستگی کے خلاف ہے، اس لیےاس سےاحتراز کرنا  بہتر ہے۔

 

من الإسراف إذا سقط من يده لقمة أن يتركها بل ينبغي له أن يبدأ بتلك اللقمة فيأكلها؛ لأن في ترك ذلك استخفافا بالطعام، وفي التناول إكراما، وقد أمرنا بإكرام الخبز قال صلى الله عليه وسلم «‌أكرموا ‌الخبز، فإنه من بركات السماء والأرض». (المبسوط للسرخسي، كتاب الكسب، ج:30، ص:268)

فان الحب معظم ما يؤكل ويعاش به ومنه صلاح الانس حتى إذا قل قل الصلاح وكثر الضر والصياح وإذا فقد فقد النجاح باختلال الأشباح والأرواح ولامر ما قال عليه السلام (أكرموا الخبز فان الله أكرمه فمن أكرم الخبز أكرمه الله) وقال عليه السلام (أكرموا الخبز فان الله سخر له بركات السموات والأرض والحديد والبقر وابن آدم ولا تسندوا القصعة بالخبز فانه ما اهانه قوم الا ابتلاهم الله بالجوع) وقال عليه السلام (اللهم متعنا بالإسلام وبالخبز فلولا الخبز ما صمنا ولا صلينا ولا حججنا ولا غزونا وارزقنا الخبز والحنطة) كما فى بحر العلوم قال فى شرعة الإسلام ويكرم الخبز بأقصى ما يمكن فانه يعمل فى كل لقمة يأكلها الإنسان من الخبز ثلاثمائة وستون صانعا أولهم ميكائيل الذي يكيل الماء من خزانة الرحمة ثم الملائكة التي تزجر السحاب والشمس والقمر والافلاك وملائكة الهواء ودواب الأرض وآخرهم الخباز. (روح البيان، سورة يس، آية:، ج:7، ص:392)


فتویٰ نمبر : 6382/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں