بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوی کو تین طلاق دینے کے بعد رشتہ کی حیثیت


سوال

میں نے سال 2020ء کو شادی کی ،میری بیوی شروع ہی سے بدزبان تھی ،ہر وقت جھگڑتی تھی اور  شروع دن سے  گھر کے ماحول کے ساتھ موافقت پیدا نہ ہوئی ۔میرے سامنے شدیدزبان درازی کرکے مجھے اور میرے اہل وعیال کو برابھلا کہتی تھی اور کبھی کبھار سخت غصے کی حالت میں توڑ پھوڑ اور مار بھی کرتی، جس کی وجہ سب گھر والے خوفزدہ ہوجاتے۔بیوی کی والدہ اور بھائیوں نے بھی گھر میں بےجا مداخلت کی،بالآخر ایک دن میں نے  اس کی زبان درازی سے تنگ آکر غصے کی حالت میں ایک یا دوبار طلاق کے الفاظ کہے لیکن اس کے بعد میں نے رجوع کرلیا۔

اس کے بعد بھی بیوی کا رویہ وہی رہا اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ایک دن اس کا بھائی آیا اور ہاتھ اٹھانے(مارنے) کی دھمکی دی،اور منع کرنے کے باوجود بیوی بچوں کو لےکر گھر چلاگیا ۔اگلے دن بیوی واپس آئی اور پھر سے وہی بدزبانی شروع کی تو میں نے اس بار تین طلاقیں ایک ساتھ دےدیں ،اس وقت سے لےکر اب تک میں نے اس سے مکمل لاتعلقی اختیار کرلی ہے۔اب سوال یہ ہےکہ  میرے اور اس کے درمیان رشتہ کی کیا حیثیت ہے؟

جواب

شریعتِ مطہرہ میں شوہر کو تین طلا ق دینے کا اختیار دیا گیا ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاق رجعی دے، تو اس کے پاس  عدت کے اندر رجوع کا اختیار رہتا ہے۔اگر وہ عدت میں رجوع کرکے مزید تین طلاقیں دے دے، تو عورت تین طلاقوں سے مطلقہ مغلظہ بن کر شوہر پر حرام ہوجاتی ہے ۔ اس کے بعد میاں بیوی کا کوئی رشتہ  باقی نہیں رہتا۔اور دونوں ایک دوسرے کے لیے نامحرم بن جاتے ہیں۔

صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے بیوی کو پہلے ایک یا دو مرتبہ طلاق رجعی دی ،اوررجوع کرنے کے بعد پھر تین طلاقیں دیں، تو اب یہ عورت تین طلاقوں کے ساتھ مطلقہ مغلظہ ہو کر شوہر پر حرام ہوگئی ہے، لہٰذا اب ان دونوں کے مابین کوئی رشتہ  باقی نہیں ہے۔

 

‌قال الله تعالى: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ (البقرة: 230)

وأما ‌الطلقات ‌الثلاث ‌فحكمها ‌الأصلي ‌هو ‌زوال ‌الملك،وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛لقوله عز وجل{فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}[البقرة: 230]،وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة. (بدائع الصنائع،كتاب الطلاق،فصل في حكم الطلاق البائن،ج:3،ص:187)


فتویٰ نمبر : 7232/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں