بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

جمعہ کے خطبے میں تا خیر کرنا


سوال

اگر جمعہ کا خطبہ عید کے خطبے کی طرح نماز کے بعد پڑھا جائے تو کیا ایسا کرنا درست ہے ،نیز عیدین اور جمعے کے خطبے میں کیا فرق ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ نمازِ جمعہ فرض ہے اور جمعہ کی نماز کے قیام کے لیے جمعہ کا خطبہ ہونا شرط ہے، لہذا اگر کسی جگہ خطبہ دیے بغیر جمعہ کی نماز ادا کی گئی تو ایسی صورت میں جمعہ کی نماز ادا نہیں ہوگی، جبکہ عیدین کی نماز واجب ہے اور خطبہ عیدین سنت مؤکدہ ہے، اگر عیدین کی نماز کے بعد خطبہ نہ دیا جائے تو نمازِ عید ادا ہو جائے گی، البتہ سنت کے خلاف ادا ہوگی۔

چونکہ خطبہ عیدین جمعہ کی طرح نماز کے لیے شرط نہیں ،بلکہ بغیر خطبہ بھی نماز عیدین صحیح ہو جاتی ہے ۔ اس لیے  خطبہ عیدین بعدنماز عید پڑھا جاتا ہے۔

 

(ومنها الخطبة قبلها) حتى لو صلوا بلا خطبة أو خطب قبل الوقت لم يجز، كذا في الكافي.

 الخطبة تشتمل على فرض وسنة فالفرض شيئان الوقت وهو بعد الزوال وقبل الصلاة حتى لو خطب قبل الزوال أو بعد الصلاة لا يجوز، هكذا في العيني شرح الهداية، والثاني ذكر الله تعالى، كذا في البحر الرائق وكفت تحميدة أو تهليلة أو تسبيحة، كذا في المتون. (الفتاوى الهندية ،کتاب الصلوۃ،باب الجمعة،ج:1،ص: 146)

(‌تجب ‌صلاتهما) ‌في ‌الأصح (على من تجب عليه الجمعة بشرائطها) المتقدمة (سوى الخطبة) فإنها سنة بعدها،

)قوله فإنها سنة بعدها) بيان للفرق وهو أنها فيها سنة لا شرط وأنها بعدها لا قبلها بخلاف الجمعة. قال في البحر: حتى لو لم يخطب أصلا صح وأساء لترك السنة. )رد المحتار علی الدر المختار،باب العیدین ،ج:2،ص: 66)


فتویٰ نمبر : 10646/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں