بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مجرم فریق پرجانورذبح کرنے کا جرمانہ لگانا


سوال

بعض علاقوں میں صلح اورفیصلہ کے لئے راہ ہموار کرنے کے لئے مجرم لوگ اپنے ساتھ بکری وغیرہ لاتے ہیں جسے مقامی اصطلاح میں "" ننواتئے "" کہا جاتا ہے ۔1۔ اس میں  مجرم فریق مقابل فریق کو راضی کرنے کے لیے اس کے لیے بکر ی ذبح کردیتے ہیں اور پھر سب مل کراسے کھاتے ہیں۔ کبھی کبھار معاملہ نازک ہونے کی وجہ سے مجرم فریق مقابل فریق کے گھر کے سامنے بکری اس لیے ذبح کرتے ہیں تاکہ  فریق مقابل صلح کے لیے تیار ہوجائے۔ 2۔ اسی طرح فیصلہ کرانے والے حضرات دونوں فریقوں کے درمیان نقصانات کی تلافی اور دیگر تمام معاملات مکمل کئے جانے کے ساتھ ساتھ زیادتی کرنے والے فریق پر جرمانہ کے طور فریق مقابل کے لیے جانور ذبح کرنے کا حکم  دیتے ہیں۔ 4۔اسی طرح  کوئی مظلوم کسی طاقتور قبیلے سے اپنا حق لینے کے لئے کسی دوسرے طاقتور قبیلے یا قوم کے بااثر افراد کے پاس ہمسائیگی کے لئے بکری لے جاتا ہے (جس کو مقامی اصطلاح میں "" ننواتئے "" کہا جاتا ہے) اور ان کے سامنے اس کو ذبح کرکے وہ کھالیتے ہیں، اس کے بعد ساری قوم مل کر مظلوم کو ظالم سے حق دلواتے ہیں،اب امر مطلوب یہ ہے کہ شریعت مطہرہ میں ان صورتوں کا کیا حکم ہے کیا اس بکری کا ذبح کرنا اورگوشت کھانا جائز ہے یا نہیں ؟ نوٹ : واضح رہے کہ بہت دفعہ اس "" ننواتئے "" کی وجہ سے بہت ہی کمزور اور بے بس آدمی کو اپنا حق ملتا ہے اور قتل جیسے حساس مسئلہ میں بھی بہت ہی کار آمد اور مؤثر ثابت ہوتا ہے یہاں تک کہ آخر کار وہ تنازعہ مصالحت یا شریعت یا مقامی رسم و رواج کے تحت کسی منصف کے ذریعے پر امن طور پر حل ہو جاتا ہے ۔

جواب

جاننا چاہیے کہ کسی کو راضی کرنے کے لیے رسم  ورواج کے مطابق کوئی ایسی  چیز پیش کرنا جو شریعت کے مخالف نہ ہوں تو شرعاًاس کی گنجائش پائی جاتی ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق1۔مقابل فریق کو راضی کرنے یا صلح کے لیے تیارہونے کی خاطر مجرم فریق کا بکری ذبح کرنا ایک طرح  سے  مالی جرمانے کی ادائیگی ہے لہذا صلح کی خاطر اور انسداد جرائم کے لیے اس طرح  کا مالی جرمانہ لاگو کرنا امام ابویوسف ﷬ کے ہاں جائز ہے نیز اس بکری کا  گوشت کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔

2۔اسی طرح فیصلہ کرنے والے حضرات کا مجرم فریق پرزیادتی کرنے کی وجہ سے بکری ذبح کرنے کا جرمانہ لگانا تعزیر مالی کی ایک صورت ہے جو انسداد جرائم کے کی خاطر امام ابویوسف ﷬ کے ہاں جائز ہے ۔

3۔مظلوم فریق کا اپنا حق دلوانے کی خاطربااثر افراد کے ہمسائیگی میں جانا اوران کے ذریعے اپنا حق دلوانے کے لیے ان کو بکری ذبح کرنا اگر مدد کے لیے پکارنے کی ایک صورت ہواور ذبح اسلامی طریقے سے اللہ تعالی کے نام پر ہو توشرعاً اس کی گنجائش ہوگی کیونکہ جس رسم ورواج  میں شریعت  کی خلاف ورزی نہ ہو توشرعاً اس کی گنجائش پائی جاتی ہے لہذا اس جیسی صورت میں بکر ی کا ذبح کرنا جائز ہے اور اس کے گوشت کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

 

وفي الخلاصة سمعت عن ثقة أن التعزير بأخذ المال إن رأى القاضي ذلك أو الوالي جاز ومن جملة ذلك رجل لا يحضر الجماعة يجوز تعزيره بأخذ المال.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق،ج:5،ص:44)

يجوز ‌التعزير ‌بأخذ ‌المال وهو مذهب أبي يوسف وبه قال مالك، ومن قال: إن العقوبة المالية منسوخة فقد غلط على مذاهب الأئمة نقلا واستدلالا وليس بسهل دعوى نسخها.وفعل الخلفاء الراشدين وأكابر الصحابة لها بعد موته صلى الله عليه وسلم مبطل لدعوى نسخها،(معين الحكام فيما يتردد بين الخصمين من الأحكام،فصل: التعزير لا يختص بفعل معين،ص:195)

المعروف عرفا كالمشروط شرطا:اي المعروف المعتاد بين الناس،وان لم يذكر صريحا،فهو بمنزلة الصريح،لدلالة العرف عليه.(شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي،المادة43،ج:1،ص:100)


فتویٰ نمبر : 6485/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں